پنجی، 23 اکتوبر (ہ س)۔
پنچکولہ میں منعقدہ انڈیا یوتھ گیمز میں 5 گولڈ میڈل جیتنے والی مہاراشٹر کی ریتھمک جمناسٹ سنیوکتا کالے ایک بار پھر ہلچل مچانے کے لیے گوا پہنچ گئی ہیں۔
سنیوکتا نے کھیلو انڈیا یوتھ گیمز کے چوتھے ایڈیشن میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور ریتھمک جمناسٹک کے زمرے میں پانچوں گولڈ میڈل جیتے۔ اس کے علاوہ، سنیوکتا نے گجرات نیشنل گیمز میں گولڈ میڈل جیتا تھا۔
پانچ سال کی عمر میں جمناسٹک فلور پر آنے والی سنیوکتا کا تعلق ایک متوسط گھرانے سے ہے۔ سنیوکتا نے پنچکولہ میں انفرادی آل راو¿نڈ اور انفرادی اپریٹسہوپ، بال، کلب اور ربن زمروں میں چار طلائی تمغے جیتے تھے۔ سنیوکتا نے اس ایونٹ میں کل پانچ طلائی تمغوں کے ساتھ کلین سویپ کیا تھا۔ اس سے قبل سنیوکتا نے گجرات میں منعقدہ نیشنل گیمز میں بھی انفرادی آل راو¿نڈ گولڈ جیتا تھا۔ اس کے علاوہسنیوکتا نے بنگلورو میں منعقدہ 25 ویں قومی چمپئن شپ میں دو سونے اور تین چاندی کے تمغے جیتے تھے۔
پہلی بار گوا میں منعقد ہونے والے 37 ویں نیشنل گیمز کے لئے اپنے امکانات اور تیاریوں کے بارے میں، سنیوکتانے کہا، میری تیاریاں بہت اچھی ہیں۔ مہاراشٹر سے ہم جتنے بھی جمناسٹ حصہ لے رہے ہیں وہ سخت محنت کر رہے ہیں۔ میں صرف اپنی کارکردگی اور نمبروں پر توجہ مرکوز کرتی ہوں کہ میں پہلے سے کتنا بہتر ہو گئی ہوں، تمغہ حاصل کرنا میرا واحد مقصد نہیں ہے بلکہ اپنی کارکردگی کا خود اندازہ لگانا میری ترجیح ہے۔
سنیوکتا کو انٹرنیشنل جمناسٹک فیڈریشن (ایف آئی جی) نے بھی تسلیم کیا ہے اور اسے دنیا بھر کے سرفہرست جمناسٹوں کی ایف آئی جی کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ یہ اس کے لیے بہت بڑی کامیابی ہے اور اس کی محنت اور لگن کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ کھیلو انڈیا یوتھ گیمز، نیشنل گیمز اور نیشنل چمپئن شپ کے علاوہ، سنیوکتا نے کئی بین الاقوامی مقابلوں میں بھی حصہ لیا ہے۔
اپنی کامیابیوں پر سنیوکتا نے کہا کہ میں نے اپنے کیریئر میں اب تک کل 150 تمغے جیتے ہیں جن میں سے 125 سونے کے ہیں۔
2019 میں تھائی لینڈ میں منعقدہ ایشین چمپئن شپ میں، سنیوکتا نے کلب اپریٹس میں ساتویں نمبر پر کوالیفائی کیا تھا اور ہندوستان کے لیے تاریخ رقم کی تھی۔ اس سے پہلے کبھی بھی ہندوستان ٹاپ 8 میں کوالیفائی نہیں کرسکا تھا۔ اس کے بعد وہ فرانس میں ورلڈ اسکول گیمز اور تھائی لینڈ میں 2022 ایشین چیمپئن شپ میں کھیلی۔ وہاں اسے تین کے بجائے دو آلات دیے گئے۔ وہ ان میں بھی ٹاپ پر رہی۔
ازبکستان میں منعقدہ ریتھمک جمناسٹک ورلڈ کپ 2023 میں اپنی کارکردگی سے متاثر کرنے والی سنیوکتا ایک بار پھر اپنی کارکردگی کو دہرانے کے لیے تیار ہیں۔ گوا میں نیشنل گیمز کے انعقاد کی تیاریوں کے بارے میں جب ان سے ان کی رائے پوچھی گئی تو انہوں نے کہا کہ جیسے ہی میں نے اسٹیڈیم کے اندر جمنووا کے بین الاقوامی معیار کے آلات کو دیکھا تو میں خوشی سے اچھل پڑی اور اسی وقت میں نے سوچا کہ گولڈ میڈل۔ اب میرا ہے، کیونکہ اس طرح کے تکنیکی آلات حاصل کرنا عام بات نہیں ہے۔ اگر جمناسٹک کی میٹ آرام دہ اور اعلیٰ معیار کی ہو، تو اسے انجام دینا آسان ہو جاتا ہے اور چوٹ لگنے کے امکانات بھی کم ہو جاتے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
