پنجی، 30 اکتوبر (ہ س)۔
گوا میں 37 ویں نیشنل گیمز میں پینچک سلاٹمیں جیتا ہوا کانسی کا تمغہ آسام کے نوجوان کھلاڑی تلوک کٹم کی زندگی میں امید کی ایک نئی کرن لے آیا ہے۔ مالی مجبوریوں کی وجہ سے تلوک نے 2016 میں اپنے پسندیدہ کھیل کو خیرباد کہہ دیا تھا، لیکن اب وہ پورے جوش و جذبے کے ساتھ میٹ پر واپس آئے ہیں۔
دنیا کے سب سے بڑے دریا ئی جزیرے مجولی سے تعلق رکھنے والے تلوک نے اپنے کوچ لکھیا جیت ڈول کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے 2019 میں ریاستی چمپئن شپ کے 49 کلوگرام زمرے میں طلائی تمغہ جیت کر شاندار واپسی کی۔کووڈ-19 لاک ڈاو¿ن نے انہیں ایک بار پھر کھیل چھوڑنے پر مجبور کردیا۔ تاہم انہیں اگلا موقع گوا میں 37ویں نیشنل گیمز میں ملا اور انہوں نے یہاں سے اپنے نئے سفر کا آغاز کیا۔
تمغہ جیتنے کے بعد تلوک پرجوش تھے اور انہوں نے کہا، زندگی ہر کسی کو دوسرا موقع دیتی ہے، اس کانسی نے مجھے دوبارہ کبھی ہار نہ ماننے کی ہمت دی ہے۔ ہاں – سونے کا تمغہ جیتنا ہمیشہ اچھا ہوتا ہے، لیکن کانسی کا تمغہ بھی میرا سب سے بڑا ہے۔ یہ زندگی میں امید کی ایک نئی کرن لے کر آیا ہے۔ اس نے مجھے امید دی ہے کہ میں اگلی بار اپنے تمغے کا رنگ بدل سکتا ہوں۔
تلوک نے 2013 میں کک باکسنگ کے ساتھ کھیلوں کی دنیا میں قدم رکھا اور تین سال بعد انہوںنے پینچک سلاٹ میں حصہ لینا شروع کیا۔ انہوں نے 2016 میں منعقدہ قومی چمپئن شپ میں چاندی کا تمغہ جیتا اور پھر اگلے سال اسے سونے کے تمغے میں تبدیل کر دیا۔ انہیں 2018 میں جکارتہ ایشین گیمز کے لیے انتخاب سے محروم رہنے کے بعد کانسی کے تمغے پر اکتفا کرنا پڑا۔ لیکن پھر ان گیمز میں ناکامی کی وجہ سے وہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنے پر مجبور ہو گئے۔ تب تلوک نے باکسنگ کی کوشش کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کھیلو انڈیا یوتھ گیمز میں خود کو ثابت کرنے کے لیے باکسنگ میں بھی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ لیکن قسمت میں کچھ اور ہی تھا۔ وہ اس بار پھر تمغہ جیتنے سے محروم رہے کیونکہ ان کی ماںاسپتال میں داخل تھی اور وہاں ان کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں تھا۔
تلوک کو اپنے اسپورٹس کیریئر کے دوران مسلسل رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا اور ہر گزرتے دن کے ساتھ ان کے خاندان کا مالی بوجھ بھاری ہوتا جارہا تھا اور اس کے بعد انہوں نے ہمیشہ کے لیے کھیل کو خیرباد کہنے کا فیصلہ کیا۔
یہ میرے لیے بہت مشکل ہوتا جا رہا تھا، انہوں نے کہا۔ میرا کھیل کیریئر کہیں نہیں جا رہا تھا۔ میں نے ایک کھیل چھوڑ کر دوسرا کھیلنا شروع کر دیا اور پھر خاندان پر مالی بوجھ بڑھتا چلا گیا۔ اس لیے میں نے سب کچھ چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور چنئی چلا گیا۔
تلوک نے مزید کہا، چنئی میں، میں نے ایک آٹوموبائل شوروم میں سیکورٹی گارڈ کے طور پر کام کرنا شروع کیا اور ایک سال تک جاری رہا۔ میرے ایک بڑے بھائی بھی وہاں ملازمت کرتے ہیں، اس لیے میرے لیے کام کرنا آسان ہو گیا۔ لیکن پھر بھی میرے اندر کہیں نہ کہیں کھیل کھیلنے کا جذبہ موجود تھا اور میرے کوچ مجھے بار بار فون کرتے رہے۔
انہوں نے کہا، مجھے امید ہے کہ اس تمغے سے مجھے آسام میں ملازمت حاصل کرنے میں مدد ملے گی اور اس سے خاندان پر مالی بوجھ کم ہوگا۔ میں چاہتا ہوں کہ میرے والد اب آرام کریں۔
ہندوستھان سماچار
