تلنگانہ اسمبلی میں آج مجلس کے فلور لیڈر اکبر الدین اویسی نے حکومت کی جانب سے سرکاری احکامات (جی اوز) اور بی آر اوز کو ویب سائٹ پر شائع نہ کرنے پر سخت اعتراض کیا۔ تاہم، جب اسپیکر نے ان کے سوال پر فوری بحث کے بجائے تحریری جواب دینے کا اعلان کیا، تو اکبر اویسی نے اسے جمہوریت کا قتل قرار دیا اور برہمی کا اظہار کرتے ہوئے احتجاج کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسمبلی کو کسی پارٹی کے دفتر کی طرح نہیں چلایا جاسکتا۔ اسپیکر نے بحث کے لیے وقت دینے کی یقین دہانی کرائی، مگر مجلس کے ارکان نے عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے واک آؤٹ کر دیا۔
BulletsIn
- اکبر اویسی نے حکومت سے جی اوز اور بی آر اوز کو ویب سائٹ پر نہ ڈالنے پر سوال اٹھایا۔
- اسپیکر نے سوال پر فوری بحث کے بجائے تحریری جواب دینے کا اعلان کیا۔
- اکبر اویسی نے اس فیصلے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے اسے جمہوریت کا قتل قرار دیا۔
- انہوں نے کہا کہ اسمبلی کو کسی پارٹی کے دفتر کی طرح نہیں چلایا جاسکتا۔
- اسپیکر نے وضاحت دی کہ وقفہ سوالات ختم ہو چکا ہے اور دیگر بلز پر بحث ہونا باقی ہے۔
- اکبر اویسی نے سوالات کو حذف کرنے اور جوابات کو غیر تسلی بخش قرار دیا۔
- انہوں نے الزام لگایا کہ ایوان کی کارروائی منصفانہ طریقے سے نہیں چلائی جارہی۔
- مجلس کے ارکان جعفر حسین معراج، کوثر محی الدین، محمد مبین، احمد بلعلہ، اور میر ذوالفقار علی نے بھی واک آؤٹ کیا۔
- مجلس کے ارکان نے اسمبلی کی کارروائی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور سوالات کو نظرانداز کرنے کا الزام لگایا۔
- اسپیکر نے مجلس کے فلور لیڈر کو یقین دہانی کرائی کہ ان کے سوالات پر منگل کے روز بحث کی جائے گی۔
