کویت میں ڈرائیونگ کے دوران نقاب یا برقع پہننے سے متعلق ایک پرانے فیصلے کی وضاحت کی گئی ہے۔ کویتی وزارت داخلہ نے واضح کیا ہے کہ 1984ء میں جاری کیا گیا یہ فیصلہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر تھا، لیکن یہ اب کوئی موثر قانون نہیں ہے۔ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی افواہیں حقیقت پر مبنی نہیں۔ وزارت داخلہ نے اس فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے چند اہم نکات بیان کیے ہیں:
BulletsIn
- 1984ء میں کویت نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ڈرائیونگ کے دوران نقاب یا برقع پہننے پر پابندی کا فیصلہ کیا تھا۔
- یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا تھا کہ برقع یا نقاب کی وجہ سے ڈرائیور کی شناخت کرنا مشکل ہو جاتا تھا۔
- پولیس افسران کو خواتین ڈرائیوروں کی شناخت کی تصدیق میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔
- کچھ خواتین نے شناخت کے لیے چہرہ دکھانے سے انکار کر دیا تھا، جس سے مزید پیچیدگیاں پیدا ہوئیں۔
- اس فیصلے کا مقصد صرف سکیورٹی کو بہتر بنانا تھا، نہ کہ کسی مخصوص طبقے کو نشانہ بنانا۔
- وزارت داخلہ کے مطابق، ڈرائیور کی تصویر کے ساتھ شناخت پہلے ہی ممکن ہے۔
- خواتین ڈرائیوروں کی شناخت بغیر کسی بڑی پریشانی کے کی جا سکتی ہے۔
- موجودہ حالات میں یہ فیصلہ کوئی موثر قانون نہیں ہے۔
- سوشل میڈیا پر اس حوالے سے پھیلنے والی افواہیں حقیقت پر مبنی نہیں۔
- وزارت داخلہ نے عوام کو گمراہ کن خبروں پر یقین نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔
