شملہ، 22 اکتوبر
ہماچل پردیش کے لوگوں کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے، ریاستی حکومت نے صفا، چنار، بانس کے ساتھ ساتھ کوٹھ (دواو¿ں کے پودے) کی لکڑی کو ریاست سے باہر لے جانے پر پابندی ہٹا دی ہے۔
اس سلسلے میں جانکاری فراہم کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سکھوندر سنگھ سکھو نے اتوار کو کہا کہ اب ریاست کے لوگ بغیر اجازت کے ان چار اقسام کی لکڑی ریاست سے باہر لے جا سکتے ہیں۔ نیز ان پرجاتیوں کی لکڑی کی نقل و حمل ریاست کے اندر اجازت کے بغیر ممکن ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ریاست میں بہت سے کسان درختوں کی ان اقسام کو تجارتی پیمانے پر اگاتے ہیں، اس لیے ان کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے ریاستی حکومت نے ان چار اقسام پر سے پابندی ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔
سکھویندر سنگھ سکھو نے کہا کہ اس کے علاوہ ریاستی حکومت نے کھیر کی لکڑی، کیچو، دیودار کا تیل اور ریاست میں اگنے والی دیگر جڑی بوٹیوں کو ریاست سے باہر لے جانے پر عائد پابندی کو بھی ہٹا دیا ہے۔ تاہم ان جنگلاتی مصنوعات کو ریاست سے باہر لے جانے کے لیے محکمہ جنگلات سے اجازت نامہ حاصل کرنا ہوگا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاستی حکومت محکمہ جنگلات سے مختلف قسم کے ای پرمٹ حاصل کرنے کے لیے ہماچل پردیش میں نیشنل ٹرانزٹ پاس سسٹم شروع کرنے جا رہی ہے۔ ہماچل پردیش اس نظام کو شروع کرنے والی ملک کی چھٹی ریاست ہوگی، جس کے متعارف ہونے سے لوگوں کو ای پرمٹ حاصل کرنے میں سہولت ملے گی اور محکمہ کے کام میں شفافیت اور کارکردگی آئے گی۔
