پٹنہ،21 اکتوبر (ہ س)۔
بہار کیسری آنجہانی ڈاکٹر شری کرشن سنگھ کے یوم پیدائش پر وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے کہا کہ میرے بیان کو آپ لوگوں نے کہیں جگہ نہیں دی اور بات کو طول پکڑا دیا۔ پروگرام کے بعد وزیر اعلیٰ نے بی جے پی لیڈروں سے دوستی کے بیان پر صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ جب ہم کچھ کہتے ہیں تو آپ لوگ غور سے نہیں سنتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ موتیہاری میں مہاتما گاندھی سنٹرل یونیورسٹی میں منعقد پروگرام کے دوران سنٹرل یونیورسٹی کی تعمیر کے بارے میں بتا رہے تھے۔ ہم نے اس وقت کی مرکزی حکومت سے سنٹرل یونیورسٹی کی تعمیر کے بارے میں پوچھا تھا۔ چمپارن علاقہ بابائے قوم مہاتما گاندھی سے متعلق ہے۔ اسی لیے ہم لوگوں نے کہا تھا کہ یہاں ایک مرکزی یونیورسٹی بنائی جائے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سال 2005 میں جب ہماری حکومت بنی تو ہم لوگوں نے چمپارن سے ہی پروگرام شروع کی تھی۔ انہیں سب باتو ں پر تقریر کر ر ہے تھے اور ان لوگوں سے کہہ رہے تھے کہ آپ سبھی لوگ اسے یاد رکھیں گے نا؟ تو سبھی نے تالی بجا کر کہاہاں ہم یاد ر کھیں گے ۔ بس اتنی سی ہی بات ہے۔ ہم نے کہیں ایسی بات نہیں کی ہے کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ جو لوگ صرف مرکز کی با ت کرتے ر ہتے ہیں انہیں ہم لوگ الرٹ کرتے رہتے ہیں کہ جو کام حکومت بہار کے ذریعہ ریاست میں کیا گیا کام کو ضرور یاد ر کھیں ۔ میڈیا میں ہماری بات کو لوگ جگہ نہیں دیتے۔ ہم لوگوں نے اپنے حکام سے کہا ہے کہ وہ اس دن کی میری تقریر کو جاری کریں۔ آج ہم لوگونں نے جو بھی کام کیا ہے کسی کے کہنے پر نہیں کیا۔ یہ میری ذاتی خواہش تھی اور وہ تعاون میں تھے۔
بی جے پی لیڈر سشیل کمار مودی کے بیان سے متعلق پوچھے گئے سوال پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سشیل کمار مودی پہلے کیا تھے ؟ لالو پرساد یادو پٹنہ یونیورسٹی کے چیئرمین تھے اور انہیں جنرل سکریٹری بنایا۔ اس وقت ہم انجینئرنگ کالج میں پڑھتے تھے۔ اس وقت ہمارے انجینئرنگ کالج کے پانچ سو ووٹ تھے۔ اس میں سے ہم لوگوں نے 400 ووٹ انہیں لوگو ں کو دلوائے تھے تب لو گ جیت کر آئے تھے۔ جب ہم لوگ ساتھ میں تھے تب سب کام ان کو ٹھیک لگ رہا تھا۔مجھے تکلیف ہوئی تھی جب انہیں نائب وزیر اعلیٰ بنایا گیا۔
نتیش نے کہا کہ آج کل سشیل مودی ہر روز کچھ نہ کچھ کہتے رہتے ہیں۔ مجھے اس پر کچھ کہنا نہیں ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ جسے کہنا ہے وہ کہہ سکتا ہے۔ ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہم دن رات کام کرتے ہیں۔ جہاں بھی ضرورت پڑتی ہے ہم اس کے لیے میٹنگ کرتے ہیں۔ ہم نے دفتر آنے کا وقت 9.30 طے کیا تھا ۔ سال 2013 تک ہم ہمیشہ چیف سکریٹریٹ میں واقع اپنے دفتر میں آیا کرتے تھے۔ اب ہم لوگوں نے یہاں باقاعدگی سے 9.30 بجے آنا شروع کر دیا ہے ۔ اب وزیر سے لے کر سب وقت پر آنے لگے ہیں۔ ہماری دلچسپی صرف یہ ہے کہ ہم لوگ بہار کے مفاد میں کام کریں اور ملک کے حق میں جس طرح بھی ہو سکے اپنے خیالات کا اظہارکریں۔
ہندوستھان سماچار/افضل/محمد
