سی بی آئی نے پرائمری ایجوکیشن کونسل کے چیئرمین سے آدھی رات تک کی پوچھ گچھ
کولکاتا، 19 اکتوبر (ہ س)۔ کولکاتا ہائی کورٹ کی ہدایات کے مطابق پرائمری ایجوکیشن بورڈ کے چیئرمین گوتم پال سے سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کے اہلکاروں نے آدھی رات تک پوچھ گچھ کی ہے۔ بدھ کو کولکاتا ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق شام 6 بجے تک سی بی آئی دفتر پہنچنے کے حکم کے تحت وہ سات منٹ پہلے سی بی آئی کے دفتر پہنچ گئے تھے۔ تقریباً پانچ گھنٹے کے بعد رات گیارہ بجے کے قریب گوتم نظام پیلس سے باہر آئے۔ ان کے باہر جانے کے باوجود بورڈ کے ڈپٹی سکریٹری پارتھ کرماکر سے دیر رات تک سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن کے افسران پوچھ گچھ کرتے رہے۔
ہائی کورٹ نے گوتم کو بدھ کی شام 6 بجے تک سی بی آئی کے سامنے حاضر ہونے کی ہدایت دی تھی۔ گوتم شام 5:53 بجے نظام پیلس پہنچے۔ سی بی آئی کے دفتر میں داخل ہونے سے پہلے وہ صحافیوں کے کسی سوال کا جواب دیے بغیر خاموشی سے دفتر میں داخل ہوگئے۔ تقریباً گیارہ بجے وہ باہر آئے اور صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ معزز عدالت نے مجھے سی بی آئی کے دفتر آنے کو کہا۔ عدالت کے حکم پر آیا ہوں۔ میں نے سی بی آئی افسران کو وہ سب کچھ بتا دیا ہے جو وہ جاننا چاہتے تھے۔ اس کے بعد وہ گاڑی میں بیٹھ کر چلے گئے۔
دراصل کولکاتا ہائی کورٹ کے جج ابھیجیت گانگولی نے کہا تھا کہ کولکاتا ہائی کورٹ میں کئی بنیادی مقدمات کی سماعت ہوتی ہے۔ بورڈ کے موجودہ چیئرمین سمیت دیگر عہدیداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ نئی چھپی ہوئی کاپی ’’ڈیجیٹائزڈ کاپی‘‘ ہے۔ اس لیے عدالت کو لگتا ہے کہ بورڈ کے چیئرمین اور ڈپٹی سکریٹری سے پوچھ گچھ کی ضرورت ہے۔ جسٹس نے یہ بھی کہا کہ سی بی آئی بورڈ کے کسی بھی افسر کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ کر سکتی ہے۔
ہندوستھان سماچار
/شہزاد
