جموں و کشمیر کے سابق وزیر لال سنگھ کو ای ڈی نے منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار کیا
جموں، 8 نومبر (ہ س)۔ جموں و کشمیر کے سابق وزیر چودھری لال سنگھ کو انسداد بدعنوانی عدالت نے منی لانڈرنگ کیس میں ان کی پیشگی ضمانت کی درخواست خارج کرنے کے چند گھنٹے بعد ای ڈی نے گرفتار کر لیا۔ حکام نے بتایا کہ لال سنگھ، اُن کی اہلیہ اور سابق رکن اسمبلی کانتا اندوترا کے ذریعہ چلائے جانے والے تعلیمی ٹرسٹ کے خلاف منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت درج مقدمہ کے تحت وفاقی ایجنسی کے پاس زیر تفتیش ہیں۔
ایک اہلکار نے بتایا کہ ڈوگرہ سوابھیمان سنگٹھن پارٹی کے چیئرمین چودھری لال سنگھ کو شام کے وقت شہر کے مضافات میں سینک کالونی کے چاوڑی علاقے کے ایک گھر سے گرفتار کیا گیا۔ اہلکار نے یہ بھی کہا کہ سابق وزیر نے ایجنسی کی گرفتاری سے بچنے کی پوری کوشش کی۔ سنگھ کی گرفتاری کی خبر سنتے ہی اندوترا کی قیادت میں ان کے حامیوں کا ایک گروپ نروال میں ای ڈی کے دفتر کے باہر جمع ہوا اور اندر داخل ہونے کی کوشش کی لیکن سی آر پی ایف اہلکاروں نے انہیں روک دیا۔
اندوترا روتے ہوئے اپنے شوہر سے ملنے کی اجازت مانگنے لگیں۔ حکام نے بتایا کہ امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے پولیس کی کمک جائے وقوعہ پر روانہ کی گئی ہے۔ قبل ازیں سنگھ کی ضمانت کی درخواست کو جموں کی انسداد بدعنوانی عدالت نے مسترد کر دیا تھا لیکن ان کی اہلیہ اور ان کی بیٹی کرانتی سنگھ کی عبوری پیشگی ضمانت میں 30 نومبر تک توسیع کر دی گئی۔ خصوصی جج بالا جیوتی نے ای ڈی کی طرف سے پیش ہونے والے خصوصی سرکاری وکیل اشونی کھجوریا اور درخواست گزاروں کے وکیل راجیش کوتوال کے دلائل سننے کے بعد تین الگ الگ احکامات جاری کئے۔
ہندوستھان سماچار
/شہزاد
