علی گڑھ، 27 جنوری۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے کینیڈی آڈیٹوریم اور ویمنس کالج آڈیٹوریم میں مشہور فلمساز و فنکار اور اے ایم یو کے سابق طالب علم مظفر علی کی خودنوشت ”ذکر“ (پینگوئن، 2022) پر دو پینل مباحثوں کا اہتمام کیا گیا، جو طلباء، اساتذہ اورادب و فن اور ثقافت سے دلچسپی رکھنے والوں کے لئے یادگاری ثابت ہوا۔
پینل میں شامل شعبہ انگریزی کے چیئرمین پروفیسر محمد عاصم صدیقی اور آرٹ و کلچر کیوریٹر و جامعہ ملیہ اسلامیہ میں وزٹنگ فیکلٹی محترمہ عنبرین خان نے مظفر علی سے دلچسپ سوالات کیے، جن کے جوابات خوبصورت اشعارو اقتباسات سے مزین تھے۔ گمن (1978)، امراؤ جان (1981)، آگمن (1982) اور انجمن (1986) جیسی فلمیں دینے والے مظفر علی نے طلباء سے غیر رسمی بات چیت کی اور فلمسازی، کریئر اور مستقبل کے انتخاب، کنبہ، لکھنؤ و علی گڑھ، کتاب کے عنوان اور مسلم شناخت جیسے سوالات کے تشفی بخش جواب دئے۔
پروفیسر محمد عاصم صدیقی نے مظفر علی سے دریافت کیا کہ امراؤ جان (1981) کی تیاری کے وقت کیا انھیں اس بات کا احساس تھا کہ وہ ایک شاہکار بنا رہے ہیں۔اس سلسلہ میں انہوں نے ان لمحات کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے والد سید ساجد حسین علی نے فلم بنانے کے دوران امراؤ جان پر کافی تحقیق کی جس سے اسکرین پلے کو مستند بنانے میں مدد ملی۔مظفر علی نے کہاکہ انھوں نے ستیہ جیت رے سے بہت کچھ سیکھا۔ پروگرام کی صدارت کرتے ہوئے پروفیسر شافع قدوائی نے کہا کہ مظفر علی کی خود نوشت اس لحاظ سے غیرمعمولی ہے کہ اسے اپنی ذات سے علاحدہ کرکے لکھا گیا ہے، حالانکہ عموماً یاد داشتیں لکھتے وقت لوگ اپنی محبت میں گرفتار نظر آتے ہیں۔ ’ذکر‘ کا یہ پہلو اسے دیگر خودنوشتوں سے ممتاز کرتا ہے اور اس کا مطالعہ فن و ثقافت میں دلچسپی رکھنے والوں کے لئے ناگزیر ہے۔ اس موقع پر پروفیسر محمد سجاد (شعبہ تاریخ، اے ایم یو) نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ کتاب میں تحریک خلافت پر مظفر علی نے بہت مناسب تبصرہ کیا ہے۔ انہوں نے املی کے درخت کے بدھ مت کے ساتھ رشتہ کے بارے میں بات کی جسے یادداشت میں علی گڑھ سے متعلق باب کے عنوان کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔
افتتاحی کلمات محترمہ نبیہا عمر، ممبر، یونیورسٹی ڈبیٹنگ اینڈ لٹریری کلب نے ادا کئے، جب کہ کلب کے دیگر رکن شمس الضحیٰ نے شکریہ کے کلمات ادا کئے۔ اس موقع پر طلباء نے مظفر علی کی دستخط شدہ کتاب کی کاپیاں خریدیں۔
اس سے قبل ویمنس کالج میں ہونے والے پینل مباحثہ میں اے ایم یو وائس چانسلر پروفیسر محمد گلریز بطور مہمان خصوصی اور پروفیسر نعیمہ خاتون، پرنسپل، ویمنس کالج بطور مہمان اعزازی شریک ہوئے تھے۔ پروفیسر گلریز نے اپنے خطاب میں سوانح عمریوں کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
