جموں ،16 اکتوبر (ہ س)۔
جموں و کشمیر میں ان دنوں مچھروں کا خوف ہے۔ میونسپل کارپوریشن اور محکمہ صحت کی فوگنگ مہم کے دعوؤں کے باوجود ڈینگی اور چکن گنیا کے کیسز درج کیے جارہے ہیں۔ بخار کی وجہ سے لوگ اسپتالوں میں بھی آرہے ہیں۔ اتوار کو بھی 118 افراد میں ڈینگی کی تصدیق ہوئی۔ جموں و کشمیر میں اب تک 3528 کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔محکمہ صحت سے موصول ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق اتوار کو کل 1028 افراد بخار اور ڈینگی کی دیگر علامات کے ساتھ ٹیسٹ کروانے اسپتال پہنچے۔ جن میں سے 118 افراد میں ڈینگی کی تصدیق ہوئی۔ڈینگی سے متاثر ہونے والوں میں 13 بچے اور 44 خواتین شامل ہیں۔ جموں ضلع میں سب سے زیادہ 63 کیس اور ادھم پور میں 36 کیس درج ہوئے ۔جبکہ سانبہ میں سات، کٹھوعہ میں آٹھ، ریاسی میں ایک، رامبن میں ایک اور کشمیر میں دو کیس رپورٹ ہوئے۔ محکمہ صحت کے حکام کے مطابق اب تک رپورٹ ہونے والے کل کیسز میں سے جموں ضلع میں 2392 کیسز سامنے آئے ہیں۔اس کے علاوہ سانبہ سے 233 ، کٹھوعہ سے 270 ، 396 ادھم پور، 33 ریاسی 68 راجوری 23 پونچھ 28 ڈوڈہ 32 رامبن چار کشتواڑ اور 17 کشمیر سے رپورٹ ہوئے۔اور 28 کیس دوسری ریاستوں سے آئے۔ یہی نہیں اب تک 1152 مریض اسپتالوں میں داخل ہوچکے ہیں۔ ان میں سے 1037 کو اسپتالوں سے فارغ کر دیا گیا ہے جبکہ 84 تاحال اسپتالوں میں داخل ہیں۔علاج کے دوران چار مریضوں کی موت ہو چکی ہے ۔ اس کے علاوہ چکن گونیا کے 70 سے زیادہ کیسز بھی اب تک درج کیے جا چکے ہیں۔
زیادہ تر کیسز بخار کی وجہ سے آرہے ہیں۔اسپتال کے وارڈز بخار کے مریضوں سے بھرے پڑے ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس بار بخار کے زیادہ کیسز آ رہے ہیں۔ تمام مریض ڈینگی کی علامات کے باعث معائنے کے لیے آرہے ہیں۔ان میں سے 95 فیصد کو بخار ہے۔ انہوں نے لوگوں کو مشورہ دیا کہ وہ ڈینگی اور چکن گنیا سے محفوظ رہنے کے لیے پورے بازو والے کپڑے پہنیں۔
اصغر/ہندوستھان سماچار
/عطاءاللہ
