قاہرہ،16اکتوبر(ہ س)۔
اسرائیل، مصر اور اقوامِ متحدہ کے درمیان جلد ہی جنگ بندی معاہدہ ہو جائے گا، ان اطلاعات کے بعد انسانی امداد لے جانے والے 100 سے زیادہ ٹرک پیر کے روز رفح سرحدی گذرگاہ پر داخلے کے منتظر ہیں۔تاہم حماس کے اہلکار عزت الرشیق نے پیر کو رائٹرز کو بتایا کہ مصر کے ساتھ رفح سرحدی گذرگاہ کھولنے یا عارضی جنگ بندی کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔
جب ہمسایہ ملک مصر میں سکیورٹی ذرائع نے کہا کہ اس طرح کے معاہدے پر عمل درآمد ہونا تھا تو اس کے آدھے گھنٹے بعد اسرائیل نے بھی ایک بیان جاری کیا جس میں جنوبی غزہ میں جنگ بندی کے حوالے سے تردید کی گئی۔وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ غیر ملکیوں کو نکالنے کے بدلے غزہ میں فی الحال کوئی جنگ بندی اور انسانی امداد نہیں کی گئی ہے۔غزہ کی پٹی اور مصر کے درمیان سرحدی گذرگاہ خطے میں انسانی امداد پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور محصور شہر سے باہر جانے کے لیے بنیادی راستے کا کام کرتی ہے۔غزہ کی جانب سے مصر میں داخل ہونے والی رفح گذرگاہ غزہ سے نکلنے والی مرکزی گزرگاہ ہے جو اسرائیل کے قبضے میں نہیں ہے۔ وہاں پر اسرائیلی بمباری امدادی کارروائیوں کو مت?ثرکر رہی ہے۔
غزہ تک امداد کی محفوظ ترسیل اور کچھ غیر ملکی پاسپورٹ یافتگان کو مصر میں رفح گذرگاہ کے ذریعے انخلاءکے قابل بنانے کے معاہدے تک پہنچنے میں تاحال ناکامی کا سامنا ہے جس کی وجہ سے متعدد ممالک کی طرف سے بھیجی گئی امداد مصر کے جزیرہ نما سینائی میں جمع ہوتی جا رہی ہے۔ تاحال امدادی ٹرکوں کو گذرنے کی اجازت نہیں مل سکی۔15 اکتوبر 2023 کو مصر کے جزیرہ نما سینائی کے العریش شہر میں مصری این جی اوز کے ٹرکوں کا ایک منظر جو فلسطینیوں کے لیے انسانی امداد لے کر جا رہے ہیں۔ 15 اکتوبر 2023 کو مصر کے جزیرہ نما سینائی کے العریش شہر میں مصری این جی اوز کے ٹرکوں کا ایک منظر جو فلسطینیوں کے لیے انسانی امداد لے کر جا رہے ہیں۔ العربیہ کی خبر کے مطابق سینکڑوں خاندان غزہ پر اسرائیل کے وحشیانہ حملے سے بچنے کی امید میں رفح سرحدی گذرگاہ پر انتظار کر رہے ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کے قونصلر امور کے بیورو نے کہا کہ رفح گذرگاہ مقامی وقت کے مطابق صبح 9 بجے دوبارہ کھول دی جائے گی لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ مسافروں کو اس راستے سے گذرنے کی اجازت دی جائے گی یا نہیں۔محکمے نے ایک بیان میں کہا، ہم توقع کرتے ہیں کہ رفح گذرگاہ پر صورتحال غیر متوقع اور ناقابلِ پیش گوئی رہے گی اور یہ واضح نہیں ہے کہ مسافروں کو گذرگاہ سے گذرنے کی اجازت دی جائے گی یا نہیں۔
ہندوستھان سماچار
