نئی دہلی، 10 اگست (ہ س)۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کے الیکشن کمیشن پر ووٹ چوری کا الزام لگانے کے بعد، انڈیا اتحاد کے رہنما پیر کو پارلیمنٹ ہاؤس سے الیکشن کمیشن کے دفتر تک مارچ نکالیں گے۔
ذرائع سے موصولہ اطلاع کے مطابق 11 اگست کو اپوزیشن کے ارکان پارلیمنٹ اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی اور انڈیا الائنس کے سرکردہ لیڈروں کی قیادت میں پارلیمنٹ ہاؤس کمپلیکس سے الیکشن کمیشن کے دفتر تک تقریباً ایک کلومیٹر کا مارچ نکالیں گے۔ اپوزیشن جماعتوں نے الیکشن کمیشن سے ملاقات کے لیے پہلے ہی وقت مانگ لیا ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ یہ مارچ جمہوری عمل کی شفافیت اور منصفانہ ہونے کے مطالبے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
اس سے قبل 7 اگست کو راہل گاندھی سمیت اپوزیشن لیڈروں نے الیکشن کمیشن اور بھارتیہ جنتا پارٹی پر ووٹ چوری کرنے کا الزام لگایا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے پاس دستیاب ڈیٹا کا خود تجزیہ یہ ثابت کرتا ہے کہ انتخابی عمل میں دھاندلی ہوئی ہے۔
حزب اختلاف کی جماعتوں کا الزام ہے کہ اس مبینہ ملی بھگت سے ووٹروں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہے اور جمہوریت کی بنیادیں کمزور ہوئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک انتخابی عمل میں شفافیت اور دیانت داری کو یقینی نہیں بنایا جائے گا، عوام کا اعتماد بحال نہیں ہو سکتا۔
—————
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی
