نئی دہلی، 21 دسمبر ( ہ س)۔ ایکسائز پالیسی گھوٹالہ معاملے میں دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال پھر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے سامنے پیش نہیں ہوں گے۔ ای ڈی نے کیجریوال کو 21 دسمبر کو پیش ہونے کے لیے سمن جاری کیا تھا، جس کا کیجریوال نے جواب دیا ہے۔ یہ مسلسل دوسرا موقع ہے جب کیجریوال ای ڈی کے سمن پر پوچھ گچھ میں شامل نہیں ہوں گے۔ وہ ایک دن پہلے وپشینا سنٹر کے لیے روانہ ہوگئے، جہاں وہ 30 دسمبر تک قیام کریں گے۔
ذرائع نے جمعرات کو بتایا کہ دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال آج بھی ای ڈی کے سامنے پیش نہیں ہوں گے۔ کیجریوال نے ای ڈی کے دوسرے سمن کا جواب دیا ہے۔ تحقیقاتی ایجنسی کو بھیجے گئے اپنے جواب میں کیجریوال نے کہا کہ میں کسی بھی قانونی سمن کا جواب دینے کے لیے تیار ہوں۔ انہوں نے جواب میں لکھا، ’میرے پاس چھپانے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ یہ سمن سیاسی طور پر محرک اور غیر قانونی ہے‘۔
دہلی کے وزیر اعلیٰ نے شراب پالیسی گھوٹالے کے معاملے میں انہیں جاری کردہ ای ڈی کے دوسرے سمن کے جواب میں کہا ہے کہ ای ڈی کا یہ سمن بھی تفتیشی ایجنسی کے جاری کردہ پچھلے سمن کی طرح غیر قانونی ہے۔ ای ڈی کو یہ سمن واپس لینا چاہئے، جو کہ سیاسی طور پر محرک ہے۔ میں نے اپنی زندگی ایمانداری اور شفافیت کے ساتھ گزاری ہے۔ میرے پاس چھپانے کے لیے کچھ نہیں ہے۔
قابل ذکر ہے کہ مرکزی تحقیقاتی ایجنسی ای ڈی نے ایکسائز پالیسی گھوٹالے کے معاملے میں وزیر اعلی اروند کیجریوال کو سمن بھیجا تھا اور انہیں 21 دسمبر کو حاضر ہونے اور اپنا بیان درج کرنے کو کہا تھا۔ ای ڈی کی طرف سے کیجریوال کو یہ دوسرا سمن بھیجا گیا ہے۔ ایجنسی نے پہلے کیجریوال کو 2 نومبر کو پوچھ گچھ کے لیے بلایا تھا۔ کیجریوال اس وقت بھی مرکزی تحقیقاتی ایجنسی کے سامنے پیش نہیں ہوئے تھے اور یہ الزام عائد کیا تھا کہ نوٹس ”مبہم، سیاسی طور پر محرک اور قانون کے مطابق قابل عمل نہیں“ ہے۔
ہندوستھان سماچار
