سپریم کورٹ نے جینیاتی طور پر ترمیم شدہ (جی ایم) سرسوں کے تجارتی استعمال کی اجازت دینے والے حکومتی حکم کو چیلنج کرنے والی درخواستوں پر سماعت 15 اپریل تک ملتوی کر دی ہے۔ اس معاملے پر اٹارنی جنرل نے مزید وقت کی درخواست کی، جس پر عدالت نے اتفاق کیا۔ یہ معاملہ پہلے بھی متنازع رہا ہے، اور اس پر مختلف عدالتی فیصلے سامنے آ چکے ہیں۔ درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ جی ایم سرسوں کے استعمال سے مقامی فصلوں کو نقصان پہنچے گا اور یہ فیصلہ بین الاقوامی کمپنیوں کے مفاد میں ہوگا۔
BulletsIn
- سماعت ملتوی – سپریم کورٹ نے جی ایم سرسوں کے معاملے پر سماعت 15 اپریل تک ملتوی کر دی۔
- حکومت کا مؤقف – مرکزی حکومت کے وکیل، اٹارنی جنرل آر وینکٹ رمنی نے مزید وقت کی درخواست کی، جسے عدالت نے قبول کر لیا۔
- متنازع عدالتی فیصلہ – 23 جولائی 2024 کو سپریم کورٹ کی دو رکنی بنچ نے اس معاملے پر منقسم فیصلہ دیا تھا۔
- متضاد رائے – جسٹس بی وی ناگرتنا نے جی ایم سرسوں کی اجازت منسوخ کی تھی، جبکہ جسٹس سنجے کرول نے اس کی حمایت کی تھی۔
- جی ای اے سی کی منظوری – مرکزی وزارت برائے جنگلات و ماحولیاتی امور کے تحت کام کرنے والی جی ای اے سی نے جی ایم سرسوں کی تجارتی پیداوار کی اجازت دی تھی۔
- درخواست گزار کا اعتراض – ارونا روڈریگس نے عدالت میں درخواست دائر کر کے اس فیصلے کو چیلنج کیا ہے۔
- ماہرین کی کمیٹی – 2012 میں عدالت کے حکم پر بننے والی کمیٹی نے جی ایم فصلوں کو نقصان دہ قرار دیا تھا۔
- حکومتی یقین دہانی – حکومت نے 2016 اور 2017 میں عدالت کو یقین دلایا تھا کہ جی ایم سرسوں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
- مقامی فصلوں کو نقصان – درخواست گزاروں کے مطابق جی ایم سرسوں کے باعث مقامی سرسوں کی اقسام کو خطرہ لاحق ہوگا۔
- ملٹی نیشنل کمپنیوں کا فائدہ – درخواست گزاروں کا دعویٰ ہے کہ یہ فیصلہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مفاد میں ہوگا اور بیج کی فروخت بڑھانے کے لیے کیا گیا ہے۔
