بامبے ہائی کورٹ نے منگل کو اداکار انو کپور کی فلم “ہمارے بارہ” کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ اس میں قرآن یا مسلم کمیونٹی کے خلاف کوئی قابل اعتراض مواد نہیں پایا گیا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ فلم کا مقصد خواتین کی بہتری کے لیے ہے اور اس میں ایسی کوئی بات نہیں جو بھارتی عوام کو گمراہ کرے یا بے وقوف سمجھے۔ اس فلم کے خلاف کچھ درخواستیوں پر عدالت نے فلم کی جانچ کے بعد ان کی تصدیق نہ ہونے کی تصدیق کی۔
BulletsIn
- عدالت کا فیصلہ: بامبے ہائی کورٹ نے کہا کہ فلم “ہمارے بارہ” میں قرآن یا مسلم کمیونٹی کے خلاف کوئی قابل اعتراض چیز نہیں ہے۔
- فلم کا مقصد: فلم کا مقصد خواتین کی بہتری ہے اور اس میں ایسی کوئی بات نہیں جو مسلمانوں یا قرآن کے خلاف ہو۔
- ٹریلر کا جائزہ: عدالت نے تسلیم کیا کہ فلم کا پہلا ٹریلر قابل اعتراض تھا، لیکن وہ اب ہٹا دیا گیا ہے۔
- قابل اعتراض مناظر: فلم سے تمام قابل اعتراض مناظر کو حذف کر دیا گیا ہے۔
- عوام کے بارے میں رائے: ہائی کورٹ نے کہا کہ بھارتی عوام غلط یا بے وقوف نہیں ہیں اور انہیں صحیح و غلط کی تمیز ہے۔
- فلم کا مقصد: یہ فلم دراصل سوچنے والی ہے اور اس کا مقصد صرف تفریح فراہم کرنا نہیں بلکہ معاشرتی مسائل پر غور و فکر کرنا ہے۔
- مولانا کی تشریح: فلم میں ایک مولانا قرآن کی غلط تشریح کر رہا ہے، جس پر ایک مسلمان مرد اعتراض کرتا ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ لوگوں کو اپنے دماغ کا استعمال کرنا چاہیے اور اندھی تقلید نہیں کرنی چاہیے۔
- عدالت کی تعریف: ہائی کورٹ نے کہا کہ فلم خواتین کی بہتری کے لیے ایک سنجیدہ کوشش ہے۔
- پابندی کی درخواست: فلم پر پابندی لگانے کی درخواستوں کو عدالت نے مسترد کر دیا، کیونکہ ان میں دیے گئے دعوے صحیح ثابت نہیں ہوئے۔
- فلم کی نوعیت: عدالت نے فلم کو ایک سنجیدہ اور سماجی مسائل پر غور و فکر کرنے والی قرار دیا، نہ کہ ایسی جس سے صرف تفریحی توقع کی جائے۔
- درخواستوں کا جائزہ: اس ماہ کے شروع میں کئی درخواستیں دائر کی گئی تھیں جن میں فلم پر پابندی کی درخواست کی گئی تھی، لیکن عدالت نے ان کو مسترد کر دیا۔
