اسرائیل کے مقبوضہ مغربی کنارے میں ہونے والے ایک احتجاج کے دوران ترکیہ-امریکی دوہری شہریت رکھنے والی 26 سالہ خاتون، آئیسینور ایزگی ایگی کی ہلاکت نے بین الاقوامی سطح پر غم و غصہ پیدا کیا ہے۔ یہ واقعہ بیئیٹا قصبے میں ایک نئی یہودی بستی کی تعمیر کے خلاف احتجاج کے دوران پیش آیا۔ اسرائیلی فورسز کی فائرنگ سے سر میں گولی لگنے کے نتیجے میں ایگی کی موت ہوئی، اور امریکی و ترک حکومتوں نے اس واقعہ کی مذمت کی ہے۔
BulletsIn
- آئیسینور ایزگی ایگی ترکیہ-امریکی دوہری شہریت رکھتی تھیں۔
- وہ مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر نابلس کے قریب بیئیٹا میں اسرائیلی بستی کے خلاف احتجاج میں شریک تھیں۔
- احتجاج کے دوران سر میں گولی لگنے سے ان کی موت ہوئی۔
- اسرائیل ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) نے کہا کہ وہ غیر ملکی خاتون کی ہلاکت کی رپورٹس کی جانچ کر رہے ہیں۔
- ایگی پہلی مرتبہ انٹرنیشنل سالیڈیرٹی موومنٹ کے مظاہرے میں شریک ہوئی تھیں۔
- یہ موومنٹ فلسطینیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والا ایک گروپ ہے۔
- امریکی محکمہ خارجہ نے ایگی کی موت کی تصدیق کی۔
- ایگی سیٹل سے تعلق رکھتی تھیں اور یو ڈبلیو گریجویٹ تھیں۔
- امریکی قومی سلامتی کونسل نے واقعے پر افسوس کا اظہار کیا اور اسرائیل سے تحقیقات کی درخواست کی۔
- امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ایگی کے اہل خانہ سے تعزیت کی۔
