مرشدآباد، ۔
مرشد آباد میڈیکل کالج کے بعد کانگریس امیدوار ادھیر رنجن چودھری کو اتوار کو نوادا میں بہرام پور لوک سبھا سیٹ سے انتخابی مہم چلاتے ہوئے ایک بار پھر مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم اس بار کانگریس کے سینئر لیڈر اپنا غصہ کھوئے بغیر اپنی گاڑی کے اندر بیٹھے رہے۔ احتجاج کرنے والے لوگوں نے دعویٰ کیا کہ ادھیر چودھری کو پچھلے پانچ سالوں میں اس علاقے میں نہیں دیکھا گیا۔ انہوں نے علاقے کی ترقی کے لیے کچھ نہیں کیا۔ اس لیے بہرام پور کے سبکدوش ہونے والے ایم پی کو دیکھ کر ”گو بیک“ کا نعرہ لگایا۔ الزام ہے کہ ترنمول کارکنوں نے پارٹی پرچم لے کر ادھیر کی کار کے قریب احتجاج کیا۔
کانگریس نے الزام لگایا کہ یہ سب ترنمول کانگریس کی سازش ہے۔ وہ لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن جتنا وہ ادھیر چودھری پر اس طرح حملہ کریں گے، اتنا ہی ان کی طاقت بڑھے گی۔ عوام کانگریس لیڈر کے حق میں فیصلہ دیں گے۔ تاہم پولیس نے بروقت پہنچ کر حالات پر قابو پالیا۔
قابل ذکر ہے کہ ہفتہ کو ہی ترنمول کے حامیوں نے ادھیر کی مہم کے دوران مرشد آباد میڈیکل کے سامنے احتجاج کیا تھا۔ اس وقت وہ ناراض ہو گئےاور گاڑی سے باہر آکر ترنمول کے حامیوں سے جھڑپ ہوگئی۔ آخر کار پولیس آئی اور حالات کو قابو میں کر لیا۔ یہ واقعہ ریاست بھر میں موضوع بحث بن گیا۔
