علی گڑھ جو تالہ سازی کی کاروبار کے لیے جانا جاتا ہے، سیاست میں بھی اتنا ہی مشہور ہے۔ یہ شہر اپنے قدیم ورثے کے لیے بھی جانا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ 18ویں صدی میں شیعہ کمانڈر نجف خان نے کول کے علاقے پر قبضہ کیا، اور اسے علی گڑھ کا موجودہ نام دیا۔ اگرچہ یہ علاقہ مسلم اکثریتی علاقہ سمجھا جاتا ہے لیکن 1957 سے آج تک یہاں سے ایک بھی مسلم امیدوار نہیں جیت سکا ہے۔ اس وقت علی گڑھ پارلیمانی سیٹ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے پاس ہے۔ 2024 کے انتخابات میں بی جے پی کی نظریں یہاں انتخابی جیت کی ہیٹ ٹرک پر ہوں گی۔ اس سیٹ پر دوسرے مرحلے میں 26 اپریل کو ووٹنگ ہوگی۔
علی گڑھ لوک سبھا سیٹ کی تاریخ
1952 1957 کے انتخابات میں علی گڑھ ڈبل سیٹ تھی اور یہاں سے دو ایم پی منتخب ہوئے تھے۔ کانگریس نے یہاں پہلے دو انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی۔ لیکن اس کے بعد کے انتخابات میں یہاں غیر کانگریسی پارٹیوں نے کامیابی حاصل کی۔ 1984 میں کانگریس دوبارہ یہاں آئی، لیکن 1989 میں جنتا دل نے اس سیٹ پر قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد یہ سیٹ بی جے پی کے ناقابل تسخیر قلعے میں بدل گئی۔ یہ سیٹ بی جے پی کی شیلا گوتم کے پاس 1991 سے 1999 تک ہونے والے 4 انتخابات میں تھی۔ اس کے بعد 2004 میں کانگریس اور 2009 میں بی ایس پی نے یہ سیٹ جیتی، لیکن 2014 اور 2019 میں بی جے پی کے ستیش گوتم نے یہ سیٹ جیتی۔ آزادی کے بعد سے ہوئے 17 لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی نے چھ، کانگریس کو چار اور بی ایس پی نے ایک بار کامیابی حاصل کی ہے۔ ایس پی اپنا کھاتہ نہیں کھول پائی۔
2019کے عام انتخابات کے نتائج
2019کے انتخابات میں علی گڑھ پارلیمانی سیٹ پر نظر ڈالیں تو یہاں بھارتیہ جنتا پارٹی کے ستیش کمار گوتم نے کامیابی حاصل کی تھی۔ بی جے پی امیدوار نے 656,215 (56.38 فیصد) ووٹ حاصل کرکے بی ایس پی کے ڈاکٹر اجیت بالیان کو شکست دی۔ ڈاکٹر بالیان کو 426,954 (36.68 فیصد) ووٹ ملے۔ بی جے پی نے یہ انتخاب 229,261 ووٹوں کے فرق سے جیتا۔ کانگریس کے برجیندر سنگھ چودھری انتخابات میں تیسرے نمبر پر رہے اور انہیں 50,880 (4.37 فیصد) ووٹ ملے۔
کس پارٹی نے کس کو نامزد کیا؟
بی جے پی نے تیسری بار ایم پی ستیش گوتم پر جوا کھیلا ہے۔ یہ سیٹ ایس پی-کانگریس اتحاد میں ایس پی کے کھاتے میں ہے۔ ایس پی نے سابق ایم پی چودھری بیجندر سنگھ کو میدان میں اتارا ہے۔ بی ایس پی نے ہتیندر کمار عرف بنٹی اپادھیائے کو اپنا امیدوار بنایا ہے۔
علی گڑھ سیٹ کی ذات پات کا حساب کتاب
علی گڑھ لوک سبھا اتر پردیش کی سیٹ نمبر 15 ہے۔ اس سیٹ پر 27 لاکھ 59 ہزار 215 ووٹر ہیں۔ جس میں مرد ووٹرز کی تعداد 14 لاکھ 70 ہزار 644 ہے جب کہ خواتین ووٹرز کی تعداد 12 لاکھ 88 ہزار 435 ہے۔ جبکہ ٹرانس جینڈر ووٹرز کی تعداد 163 ہے۔ ذات پات کی مساوات کے لحاظ سے علی گڑھ میں 3 لاکھ مسلم، 2.5 لاکھ جاٹ اور 1.5 لاکھ برہمن ووٹر ہیں۔ یہاں دو لاکھ جاٹو، ڈیڑھ لاکھ ٹھاکر-راجپوت، ایک لاکھ ویشیا ، یادو اور لودھ ہیں۔ دیگر ذاتوں کی تعداد تقریباً 4.5 لاکھ ہے۔
اسمبلی نشستوں کی حیثیت
علی گڑھ لوک سبھا سیٹ میں کل پانچ اسمبلی سیٹیں ہیں۔ یہ سیٹیں ہیں کھیر، بارولی، اتراولی، کول اور علی گڑھ۔ تمام پانچ سیٹوں پر بی جے پی کا قبضہ ہے۔
جماعتوں کی فتح کی ریاضی اور چیلنجز
علی گڑھ نگر لوک سبھا اتر پردیش کی سیٹ نمبر 15 ہے۔ سابق وزیر اعلیٰ کلیان سنگھ کے بغیر یہ پہلا لوک سبھا الیکشن ہے۔ بی جے پی اپنے اثر و رسوخ کی وجہ سے خود کو مضبوط سمجھتی ہے۔ بی ایس پی کے ساتھ ساتھ ایس پی نے بھی مسلم امیدواروں کے بجائے ہندو چہروں پر دائو لگایا ہے۔ بی ایس پی کا کیڈر ووٹ ہے۔ انڈیا اتحاد کی امیدیں جاٹ اور مسلم ووٹروں پر ٹکی ہوئی ہیں۔
سیاسی تجزیہ کار پروین کمار کے مطابق گزشتہ انتخابات میں ایس پی، بی ایس پی اور آر ایل ڈی ایک ساتھ تھے۔ اس بار آر ایل ڈی اور بی ایس پی مختلف ہیں۔ اپوزیشن پارٹی مضبوط ہونے کے بجائے کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ یہاں تک کہ اگر پچھلے الیکشن میں اپوزیشن کو ملے ووٹوں کو جوڑ دیا جائے، تب بھی یہ بی جے پی کو ملنے والے ووٹوں کے برابر نہیں ہے۔ بی جے پی کو مقابلہ دینے کے لیے کافی محنت کرنی پڑے گی۔ لوگ مودی کے نام پر ووٹ دیں گے۔
علی گڑھ سے کون ایم پی کب بنا؟
1952 نردیو گریجویٹ/ سری چند سنگھل (کانگریس)
1957 نردیو گریجویٹ / جمال خواجہ (کانگریس)
1962 بی پی موریہ (کانگریس)
1967 شیو کمار شاستری (آزاد)
1971 شیو کمار شاستری (بھارتیہ کرانتی دل)
1977 نواب سنگھ چوہان (بھارتیہ لوک دل)
1980 اندرا کماری (جنتا پارٹی سیکولر)
1984 اوشا رانی (کانگریس)
1989 ستیہ پال ملک (جنتا دل)
1991 شیلا دیوی گوتم (بی جے پی)
1996 شیلا دیوی گوتم (بی جے پی)
1998 شیلا دیوی گوتم (بی جے پی)
1999 شیلا دیوی گوتم (بی جے پی)
2004 بیجندر سنگھ (کانگریس)
2009 راج کماری چوہان (بی ایس پی)
2014 ستیش کمار گوتم (بی جے پی)
2019 ستیش کمار گوتم (بی جے پی)
