ہماچل پردیش کے زرعی سائنسدانوں نے آلو کی کاشت کے ایک جدید اور انقلابی طریقے پر تحقیق کی ہے، جس میں کھیت میں ہل چلائے بغیر آلو اگانے کی تکنیک استعمال کی جاتی ہے۔ اس نئی ٹیکنالوجی کا مقصد کاشتکاروں کے اخراجات کو کم کرنا، محنت کو آسان بنانا، اور ماحول دوست کاشتکاری کو فروغ دینا ہے۔ یہ طریقہ کار کسانوں کے لیے خاص طور پر فائدہ مند ثابت ہو رہا ہے، کیونکہ اس سے پانی، مشینری، مزدوری اور کیمیائی اسپرے کے اخراجات میں نمایاں کمی آتی ہے۔ ڈاکٹر سوربھ شرما کی قیادت میں کی جانے والی یہ تحقیق کامیابی سے ہمکنار ہو چکی ہے اور ریاستی سطح پر کسانوں کے لیے ایک نئی امید بن کر سامنے آئی ہے۔
BulletsIn
-
اس نئی ٹیکنالوجی سے آلو کی کاشت کے لیے کھیت میں ہل چلانے یا ٹریکٹر استعمال کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔
-
کسانوں کے لیے محنت، مزدوری اور اخراجات میں نمایاں کمی آتی ہے۔
-
کھیت میں کھونٹی کا استعمال کرتے ہوئے آلو کے بیج نم زمین پر رکھ کر انہیں ڈھانپا جاتا ہے۔
-
اس طریقے میں آلو کی فصل کو صرف تین بار پانی دینا کافی ہوتا ہے۔
-
ویڈیسائیڈ یا جراثیم کش اسپرے کی ضرورت نہیں پڑتی، جس سے صحت بخش فصل حاصل ہوتی ہے۔
-
پرالی کو جلانے کے بجائے کھیت میں ہی استعمال کیا جاتا ہے، جو ماحولیاتی آلودگی کو روکتا ہے۔
-
فصل اگانے کے لیے نہ نالے بنانے کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ ہی آلو کو مٹی سے ڈھانپنے کی۔
-
یہ ٹیکنالوجی چھوٹے اور متوسط درجے کے کسانوں کے لیے بھی موزوں اور فائدہ مند ہے۔
-
کفری نیل کنٹھ قسم کے آلو میں اینٹی آکسیڈنٹس اور کیروٹین اینتھوسیانین جیسے صحت بخش عناصر موجود ہوتے ہیں۔
-
اس ٹیکنالوجی سے آلو کی مختلف اقسام تیار کی جا سکتی ہیں جو بیماریوں کے خلاف زیادہ مزاحمت رکھتی ہیں
