ایک اہم پیش رفت میں، مغربی بنگال پولیس نے ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے بااثر لیڈر شاہجہان شیخ کو گرفتار کیا ہے۔ شیخ، جو سندیشکھلی یونٹ کے ٹی ایم سی صدر بھی رہ چکے ہیں، پر خواتین کی جنسی ہراسانی اور زمین پر قبضے کے سنگین الزامات کا سامنا ہے۔
طویل تلاش کے بعد گرفتار
پولیس ٹیموں نے شاہجہاں شیخ کی تقریباً 55 دنوں تک تلاش کی، جس کے بعد اسے شمالی 24 پرگنہ کے علاقے میناخان سے صبح 3 بجے گرفتار کیا گیا۔ مینا خان کے ایس ڈی پی او اسلام خان کے مطابق شیخ کو بشیرہاٹ عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔
کلکتہ ہائی کورٹ کی ہدایات
کلکتہ ہائی کورٹ نے بدھ کے روز ہدایت دی کہ مغربی بنگال پولیس کے علاوہ شاہجہان شیخ کو مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) بھی گرفتار کر سکتے ہیں۔ شیخ کافی عرصے سے مفرور تھے جس کے بعد عدالت نے یہ ہدایت جاری کی۔
شاہجہان شیخ کی مجرمانہ تاریخ
شاہجہاں شیخ اس وقت سرخیوں میں آئے جب 5 جنوری کو بنگال راشن تقسیم گھوٹالہ میں ای ڈی کی ٹیم ان سے پوچھ گچھ کرنے آئی اور اس وقت ان کے حواریوں نے ای ڈی ٹیم پر حملہ کردیا۔ شیخ اس واقعہ کے بعد سے مسلسل مفرور تھا۔
سندیشکھلی میں لگائے گئے الزامات
سندیشکھلی میں شاہجہان شیخ پر خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے اور زمینوں پر قبضے کا الزام تھا جس پر علاقے میں شدید غم و غصہ پھیل گیا۔ بائیں بازو اور بی جے پی نے اس معاملے کو لے کر ممتا حکومت کے خلاف شدید احتجاج کیا تھا۔ شاہجہان شیخ کی گرفتاری مغربی بنگال کی سیاست میں ایک اہم موڑ کی نشاندہی کرتی ہے، جس نے جرائم اور سیاست کے درمیان تعلق پر دوبارہ بحث کی۔
