– ایڈوکیٹ منو سنگھوی نے کہا ، ای ڈی تحقیقاتی ایجنسی نہیں بلکہ ہراساں کرنے والی ایجنسی بن گئی ہے
نئی دہلی، یکم اپریل ۔ دہلی ایکسائزگھوٹالہ معاملے کی ملزم اور بی آر ایس لیڈر کےکویتا کی جانب سے عبوری اور باقاعدہ ضمانت کی عرضی کی سماعت کے دوران ای ڈی پر الزام لگایا گیا کہ وہ ہراساں کرنے والی ایجنسی بن گئی ہے نہ کہ جانچ ایجنسی۔ کی کویتا کی طرف سے پیش ہوئے سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے یہ باتیں راؤز ایونیو کورٹ میں کہیں۔ مقدمے کی اگلی سماعت 4 اپریل کو ہوگی۔
سنگھوی نے کہا کہ اس معاملے میں تحقیقات مکمل طور پر جانبدارانہ رہی ہیں۔ ای ڈی کا کہنا ہے کہ یا تو وہ گرفتاریاں کریں گے یا وہ بلی اور چوہے کا کھیل کھیلیں گے۔ سنگھوی نے کہا کہ ای ڈی نے کے کویتا کو مسلسل نوٹس بھیجا ہے۔ وہ ہر روز سمن بھیج کر خوش ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ای ڈی ہر روز سمن بھیج کر خوش ہوتی ہے جس طرح روزانہ ایک سیب کھانے سے ڈاکٹر کی ضرورت نہیں ہوتی۔ سماعت کے دوران، جب عدالت نے پوچھا کہ کیا وہ عبوری ضمانت کی درخواست پر دلائل پیش کر رہے ہیں یا باقاعدہ ضمانت کی درخواست پر، سنگھوی نے کہا کہ وہ دونوں پر دلائل پیش کر رہے ہیں۔ سنگھوی نے کہا کہ عبوری ضمانت کی درخواست مسترد ہونے کے باوجود باقاعدہ ضمانت کی درخواست کا متبادل کھلا ہے اور یہ عدالت کے دائرہ کار میں آتا ہے۔
سنگھوی نے کہا کہ سمن جاری کرنے کے بعد ای ڈی نے سپریم کورٹ میں ایک نوٹ داخل کیا۔ 15 مارچ کو سپریم کورٹ میں اس معاملے کی سماعت ہوئی۔ اے ایس جی راجو نے اپنے بیانات سے مکر گئے، جو غلط ہے۔ سپریم کورٹ نے سماعت 19 مارچ تک ملتوی کر دی لیکن ای ڈی نے 15 مارچ کو ہی کے کویتا کو گرفتار کر لیا۔ سنگھوی نے کہا کہ کے کویتا سماجی رہنما ہیں اور ان کے ساتھ عام مجرم یا گینگسٹر جیسا سلوک نہیں کیا جا سکتا۔
سماعت کے دوران ای ڈی کی طرف سے پیش ہونے والے وکیل زوہیب حسین نے سنگھوی کی اس دلیل پر سخت اعتراض ظاہر کیا کہ وہ عبوری اور باقاعدہ دونوں درخواستوں پر دلائل پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج صرف عبوری دی اور باقاعدہ ضمانت کے لیے وہی دلیل نہیں دی جا سکتی۔
کویتا فی الحال عدالتی حراست میں ہے۔ 26 مارچ کو عدالت نے کے کویتا کو 9 اپریل تک عدالتی حراست میں بھیج دیا تھا۔ پیشی کے دوران کویتا نے کہا تھا کہ یہ منی لانڈرنگ کا معاملہ نہیں ہے بلکہ سیاسی لانڈرنگ کا معاملہ ہے۔ یہ ایک من گھڑت اور جھوٹا مقدمہ ہے۔ ہم بے قصور ثابت ہوں گے۔ کویتا نے کہا تھا کہ ایک ملزم بی جے پی میں شامل ہو گیا ہے۔ دوسرے ملزم کو بی جے پی سے ٹکٹ ملا ہے۔ تیسرے ملزم نے انتخابی بانڈ کی شکل میں بی جے پی کو چندہ دیا۔
ای ڈی کے مطابق کے کویتا نے 100 کروڑ روپئے کا غبن کیا تھا۔ آپ کو بتا دیں کہ 23 مارچ کو عدالت نے کے کویتا کو 26 مارچ تک ای ڈی کی حراست میں بھیج دیا تھا۔ 16 مارچ کو عدالت نے کویتا کو 23 مارچ تک ای ڈی کی حراست میں بھیج دیا۔ کویتا کو 15 مارچ کو حیدرآباد میں چھاپے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔
