
نئی دہلی، 3 دسمبر (ہ س)۔ کانگریس ہیڈکوارٹر میں اتوار کی صبح سے ہی جوش و خروش کا ماحول تھا۔ کانگریس لیڈروں اور کارکنوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی پارٹی پانچوں ریاستوں میں حکومت بنانے جا رہی ہے۔ راہل پرینکا گاندھی سینا نے پہلی بار کانگریس ہیڈکوارٹر کے باہر بھگوان رام اور ہنومان جی کی تصاویر والے بینر اور پوسٹر لگائے ہیں۔
ان بینر پوسٹروں کے اوپر بھگوان رام اور ہنومان جی کی تصویر چھپی ہوئی ہے۔ اس کے بالکل نیچے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے، راہل گاندھی، پرینکا گاندھی اور دیگر کانگریس لیڈروں کی تصاویر لگائی گئی ہیں۔ ان بینروں اور پوسٹروں میں لکھا ہے، راہل سب پر بھاری ہے،تبھی تو بھاجپا جارہی ہے۔‘‘
دہلی کانگریس سے وابستہ میگھنا نے آج کانگریس ہیڈکوارٹر کے باہر ’’ہندوستھان سماچار‘‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے خاندان کے افراد اور پارٹی کارکنوں کے ساتھ کانگریس ہیڈکوارٹر کے باہر پارٹی کی جیت کے لیے ‘ہون پوجن کیا ہے۔ وہ چاہتی ہیں کہ کانگریس پانچوں ریاستوں میں جیت حاصل کرے۔
دہلی کانگریس سے وابستہ پھول سنگھ نے کہا کہ بی جے پی حکومت مہنگائی اور بے روزگاری پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے۔ اسی لیے بی جے پی ہار رہی ہے اور کانگریس پانچوں ریاستوں میں انتخابات جیت رہی ہے۔ ہریانہ کانگریس سے وابستہ ایک کارکن نے کہا کہ بھارت جوڑو یاترا کے بعد کانگریس کی تصویر بدل گئی ہے۔ ہم مضبوط ہو گئے ہیں۔ ہماری جیت یقینی ہے۔
لیکن یہ صورت حال تین گھنٹے کے بعد صبح 10 بجے تبدیل ہونے لگی جب رجحانات یہ ظاہر کرنے لگے کہ بی جے پی مدھیہ پردیش اور راجستھان میں آگے ہے اور چھتیس گڑھ میں بھی آگے ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ کانگریس صرف تلنگانہ میں ہی آگے بڑھ رہی ہے۔ یہ خبر ملنے کے بعد کانگریس ہیڈکوارٹر کے باہر جو جوش و خروش تھا وہ ماند پڑنے لگا۔ ڈھول پر ناچتے لوگ صبح سے دائیں بائیں درختوں کے نیچے کھڑے تھے۔ ڈھول کی آواز بند ہو گئی۔ کارکنان ایک بار پھر رجحان بدلنے کا انتظار کر رہے ہیں اور شاید کانگریس دوبارہ آگے بڑھتی نظر آئے۔
ہندوستھان سماچار//سلام
