نئی دہلی، 11 دسمبر (ہ س)۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کے روز ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے ”وکست بھارت2047@: نوجوانوں کی آواز“ پہل کا آغاز کیا۔ ”وکست بھارت2047@: نوجوانوں کی آواز“ ورکشاپ نوجوانوں کی طاقت کے لیے ترقی یافتہ ہندوستان کے سفر میں فعال طور پر شامل ہونے اور تعاون کرنے کے لیے ایک شاندار پلیٹ فارم ہے۔
اس موقع پر اپنے خطاب میں وزیر اعظم مودی نے کہا کہ فرد کی تعمیر سے ہی قوم کی تعمیر ہوتی ہے۔ ہندوستان کی تاریخ کا یہ وہ دور ہے جب ملک ایک بڑی چھلانگ لگانے جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر فرد اور تنظیم کو اس عزم کے ساتھ آگے بڑھنا چاہئے کہ وہ جو کچھ بھی کریں گے، وہ ”وکست بھارت“ کے لیے کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ہندوستان کے عزائم کے حوالے سے آج کا دن بہت اہم ہے۔ انہوں نے اس ورکشاپ کے انعقاد کے لیے تمام گورنروں کو خصوصی طور پر مبارکباد دی۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملک کی نوجوان قوت کو سمت دینے کی ذمہ داری جن دوستوں پر ہے ،ان کو آپ ایک پلیٹ فارم پر لائے ہیں۔تعلیمی اداروں کا کردار افراد کی ترقی ہے اور انفرادی ترقی سے ہی قوم کی تعمیر ہوتی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں ایسی نوجوان نسل تیار کرنی ہے جو ملک کی قیادت کرے اور قومی مفاد کو ہر چیز پر ترجیح دے۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا کی نظریں ہندوستان کے نوجوانوں پر مرکوز ہیں۔نوجوان قوقت تبدیلی کی بردار بھی ہے اور تبدیلی کا فائدہ اٹھانے والی بھی۔
وزیر اعظم مودی نے وائس چانسلرز اور تعلیمی اداروں کے سربراہوں سے کہا کہ آپ کو اپنے اداروں میں داخلہ لینے والے طلباءکے لیے رول ماڈل بننے کی ضرورت ہے۔ ایک استاد کے طور پر، آپ کو یہ سوچنا چاہیے کہ آپ ملک کی ترقی کے لیے کیا کر سکتے ہیں۔ اسی طرح یونیورسٹیوں کو بھی ہندوستان کو ایک ترقی یافتہ ملک بنانے میں مدد کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں۔
نوجوانوں کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ نوجوان نسل نے تحریک آزادی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ عہد کریں کہ میں جو بھی کروں گا، ترقی یافتہ ہندوستان کے لیے کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ آج ہر شخص، ہر ادارے اور ہر تنظیم کو اس عہد کے ساتھ آگے بڑھنا ہے کہ میں جو کچھ بھی کروں وہ ترقی یافتہ ہندوستان کے لیے ہونا چاہیے ۔ آپ کے مقاصد، آپ کی قراردادوں کا مقصد صرف ایک ترقی یافتہ ہندوستان ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جب ملک کے شہری ملک کی بھلائی کا سوچیں گے تب ہی ایک مضبوط معاشرہ تشکیل پائے گا۔ معاشرے کی ذہنیت جس طرح کی ہے، ہمیں حکمرانی میں بھی اسی کا عکس نظر آتا ہے۔
ہندوستھان سماچار/شہزاد
