نئی دہلی، 14 نومبر (ہ س)۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے ذات پات کی بنیاد پر مردم شماری پر کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی کے بیان اور اس پر ایس پی سربراہ اکھلیش یادو کے تبصرہ پر تنقید کی ہے۔
بی جے پی لیڈر شہزاد پونا والا نے کہا کہ آج کل انڈیا اتحاد کے اندر جاری لڑائی کا ایک نیا باب دیکھا جا سکتا ہے۔ مدھیہ پردیش سے لے کر اتر پردیش تک اتحاد کے لوگ ایک دوسرے کو بے نقاب کر رہے ہیں۔ انڈی اتحاد کو نشانہ بناتے ہوئے شہزاد نے کہا کہ اس اتحاد کا کوئی نظریاتی مشن یا وژن نہیں ہے۔ اکھلیش یادو نے جو کہا وہ درست ہے۔ اگر راہل گاندھی کسی چیز کو ایکسرے کہہ رہے ہیں تو جواہر لعل نہرو، اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی نے اسے پہلے کیوں نہیں کروایا اور کیوں روکا؟
قابل ذکر ہے کہ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے ذات پات کی مردم شماری کو ضروری قرار دیتے ہوئے اسے سماج کا ایکسرے قرار دیا ہے۔ اس پر مدھیہ پردیش کے ستنا میں انتخابی مہم کے لیے گئے اکھلیش یادو نے اسے ایم آر آئی قرار دیتے ہوئے کانگریس پر سوال اٹھائے۔ اکھلیش یادو نے کہا، ‘جس وقت ایکسرے کرنا تھا، وہ ایکسرے کا وقت تھا۔ آج سی ٹی اسکین، ایم آر آئی اسکین ہے۔ اگر اس وقت ایکسرے کر لیا جاتا تو اتنا بڑا خلا پیدا نہ ہوتا۔ ملک کی 60 فیصد دولت 5 فیصد لوگوں کے ہتھے چڑھ گئی۔ یہ کیسے ہوا اور کس نے کیا؟ یہ پرانی حکومتوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہوا۔ آج ایم آر آئی کی ضرورت ہے۔ کانگریس وہ پارٹی ہے جس نے آزادی کے بعد ذات پات کی مردم شماری نہیں کی۔
ہندوستھان سماچار
