نئی دہلی، 20 اکتوبر (ہ س)۔
مرکزی وزیر داخلہ اور کو آپریٹیو امت شاہ نے کہا کہ نیشنل کوآپریٹو کنزیومر فیڈریشن آف انڈیا لمیٹڈ (این سی سی ایف) کو سال 2027-28 تک 50 ہزار کروڑ روپے کا کاروبار حاصل کرکے خود کفیل ہونا چاہئے۔
جمعہ کو نئی دہلی میں این سی سی ایف کے بورڈ آف ڈائریکٹرز سے خطاب کرتے ہوئے شاہ نے کہا کہ این سی سی ایف کو ملک بھر میں پرائمری ایگریکلچرل کریڈٹ سوسائٹیز (پی اے سی ایس) اور دیگر کوآپریٹو اداروں کو اپنا ممبر بنانے پر زور دینا چاہیے۔ تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ این سی سی ایف کے شیئر کیپٹل میں کوآپریٹیو کا تناسب نسبتاً زیادہ ہے۔
شاہ نے کہا کہ این سی سی ایف کو خود انحصار کوآپریٹو تنظیم بننے کے لیے اگلے 10 سالوں کے لیے روڈ میپ تیار کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت تعاون اس پر عمل درآمد میں اپنا بھرپور تعاون دے سکتی ہے۔ مرکزی وزیر تعاون نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ گجرات، بہار اور دیگر ریاستوں کے کسانوں سے این سی سی ایف کے ساتھ اس کی ایسوسی ایٹ کمپنیوں کے ذریعے ایتھنول کی تیاری کے لیے مکئی کی خریداری کو یقینی بنایا جائے۔
وزیر نے کہا کہ اگر این سی سی ایف اور این اے ایف ای ڈی چاہیں تو وہ وزارت تعاون کی مدد سے نیشنل انفارمیٹکس سنٹر (این آئی سی) سے ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر اپنی مشترکہ ایپ تیار کر سکتے ہیں اور اس مشترکہ ایپ کے ذریعے رابطہ قائم کر کے مکئی خریدی جا سکتی ہے۔
شاہ نے کسانوں سے دالیں خرید کر این سی سی ایف کے ذریعے برآمدی مواقع تلاش کرنے اور کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) پر اس خریداری کو یقینی بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے جارحانہ توسیع اور مارکیٹنگ کو اپنانے، کسانوں کو پیشگی یقین دہانی کراتے ہوئے خریداری کرنے اور کامن کلیکشن سنٹرز کے قیام پر بھی زور دیا۔
امت شاہ نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ این سی سی ایف پیاز اور دالوں کی خریداری کے لیے پی اے سی ایس کے ساتھ معاہدہ کر سکتا ہے، تاکہ کوآپریٹو سیکٹر میں دنیا کی سب سے بڑی اسٹوریج اسکیم کے تحت اس کے ذخیرہ کرنے کے انتظامات کیے جا سکیں۔
ہندوستھان سماچار
