واشنگٹن،04جولائی(ہ س)۔امریکی کانگریس نے صدر ٹرمپ کے ٹیکس اور اخراجات سے متعلق ’بگ بیوٹی فل بل‘ کی منظوری دے دی ہے۔ اس منظوری کو صدر ٹرمپ کے اپنے ملک سے متعلق ایجنڈے کے لیے ایک اہم اور سخت مقابلے والی فتح سے جوڑا جا رہا ہے۔یاد رہے کہ یہ قانون سازی، جسے ٹرمپ کی دوسری مدت کے ایجنڈے کا سنگ بنیاد سمجھا جاتا ہے، ٹیکسوں میں مستقل طور پر بڑی کٹوتی کرے گی جو عارضی طور پر اس وقت نافذ کی گئی تھیں جب وہ پہلی بار اقتدار میں تھے۔کیپیٹل ہل میں ہونے والے اجلاس میں امریکی ایوان نمائندگان نے جمعرات کو 214 کے مقابلے میں 218 ووٹوں سے بل کو منظور کیا جبکہ اس سے قبل منگل کو سینیٹ میں اسے ایک ووٹ سے منظور کیا گیا تھا۔ٹرمپ نے ریپبلکن پارٹی کے زیر کنٹرول کانگریس کو چار جولائی تک کی ڈیڈ لائن دی تھی تاکہ وہ بل کا حتمی ورڑن قانون کی شکل دے سکیں۔کانگریس کے بجٹ آفس نے امکان ظاہر کیا ہے کہ اس بل سے اگلے 10 سالوں میں وفاقی خسارے میں 3.3 ٹریلین ڈالر (2.4 ٹریلین پاو¿نڈ) کا اضافہ ہوسکتا ہے اور لاکھوں افراد صحت کی کوریج سے محروم رہ جائیں گے۔
یاد رہے کہ منگل کو امریکی سینیٹ میں کئی گھنٹوں کے تعطل کے بعد ریپبلکنز نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹیکس اور اخراجات سے متعلق میگا بل کومنظور کیا تھا۔24 گھنٹے سے زیادہ کی بحث کے بعد ’دی ون بگ بیوٹیفل بل ایکٹ‘ نائب صدر جے ڈی وینس کے ووٹ کے ساتھ منظور کر لیا گیا۔وینس نے منگل کی سہ پہر کہا کہ ’ترمیم شدہ بل منظور ہو گیا ہے۔‘ ا±ن کے ایسا کہنے پر سینیٹ میں موجود ریپبلکنز نے تالیاں بجائیں جبکہ ڈیموکریٹس کی جانب سے اس پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا گیا۔ٹیکس، سماجی پروگراموں اور اخراجات کی سطح پر تنازعات نے ریپبلکنز کے لیے چیلنجز پیدا کر دیے تھے۔ جس کی وجہ سے پیش رفت رک گئی تھی اور ٹرمپ کو یہ تسلیم کرنے پر مجبور کیا گیا تھا کہ بل کی منظوری کے لیے ان کی ڈیڈ لائن کو پورا کرنا ’بہت مشکل‘ ہوگا۔پارٹی کو متحرک کرنے کی کوششوں کے باوجود سینیٹ کے اکثریتی رہنما جان تھون کو تین ریپبلیکن ارکان سوسن کولنز، تھوم ٹیلس اور رینڈ پال کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ کولنز، ٹیلس اور پال نے بل کے خلاف ووٹ دینے میں تمام ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan
