تہران،12جولائی(ہ س)۔ایران کے رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ ان کے ملک کے پاس یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ جب چاہے خطے میں اہم امریکی تنصیبات تک پہنچ سکتا ہے۔انھوں نے یہ بات آج ہفتے کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہی۔ خامنہ ای نے اس بات پر زور دیا کہ قطر میں امریکی فضائی اڈے العدید پر کیا گیا حملہ محض ایک معمولی واقعہ نہیں بلکہ ایک بڑی ضرب تھی، جو ان کے مطابق دوبارہ بھی دہرائی جا سکتی ہے۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے قطر میں واقع امریکی فضائی اڈے العدید پر ایرانی حملے کی سیٹلائٹ تصاویر جاری کی ہیں۔ادارے کی رپورٹ کے مطابق حملے میں وہ گنبد نشانہ بنا جس میں امریکی فوج محفوظ مواصلاتی نظام کے لیے استعمال ہونے والے آلات رکھتی ہے۔ اس کی تصدیق امریکی وزارتِ دفاع (پینٹاگان) کے ترجمان شون بارنل نے بھی کی، بارنل کے مطابق یہ گنبد ایک ایرانی بیلسٹک میزائل کی زد میں آیا تھا۔یہ ایرانی حملہ 23 جون کو قطر کے دار الحکومت دوحہ کے قریب واقع العدید فضائی اڈے پر اس وقت کیا گیا جب امریکہ نے ایران کے تین جوہری مراکز پر فضائی حملے کیے تھے۔ ایران کی جانب سے اس حملے کو جوابی انتقام کے طور پر پیش کیا گیا۔ بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی سے ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری 12 روزہ جنگ کا اختتام ہوا۔البتہ العدید پر حملہ زیادہ بڑے نقصان کا باعث نہیں بنا، جس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ امریکہ نے حملے سے قبل ہی اپنی فوجی طیارے اس فضائی اڈے سے منتقل کر دیے تھے۔ یہ اڈہ امریکی فوج کی مرکزی کمان (CENTCOM) کا فارورڈ ہیڈکوارٹر بھی ہے۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے امریکہ کو پہلے ہی یہ بتا دیا تھا کہ وہ کب اور کس طرح انتقام لے گا، جس کی وجہ سے امریکی اور قطری فضائی دفاعی نظام بروقت متحرک ہو گیا۔ اس حملے کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں کچھ دیر کے لیے فضائی پروازیں متاثر ہوئیں، لیکن وہ علاقائی جنگ کی صورت اختیار نہیں کر سکا جس کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا۔گذشتہ ماہ 23 جون کو لی گئی پلانیٹ لیبز بی بی سی کمپنی کی سیٹلائٹ تصاویر میں العدید اڈے پر وہ مثلثی گنبد واضح طور پر دکھائی دے رہا ہے۔ تاہم 25 جون اور اس کے بعد کی تصاویر میں وہ گنبد غائب نظر آتا ہے، جب کہ قریب ہی واقع ایک عمارت میں کچھ نقصان بھی دکھائی دیتا ہے۔ تصاویر سے اندازہ ہوتا ہے کہ فضائی اڈے کا باقی حصہ زیادہ تر متاثر نہیں ہوا۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan
