نیپال میں اساتذہ کی ہڑتال مسلسل پندرہویں روز بھی جاری ہے، جس کے باعث ملک کے تمام نجی اور سرکاری اسکول بند ہیں۔ اساتذہ کاٹھمنڈو کی سڑکوں پر نکل کر حکومت کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں اور اپنے مطالبات کی منظوری کے بغیر احتجاج ختم کرنے سے انکاری ہیں۔ حکومت نے اساتذہ کے دباؤ پر پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلانے کا فیصلہ تو کیا ہے، لیکن اساتذہ کو صرف زبانی یقین دہانیوں پر اعتبار نہیں ہے۔ اس صورتحال سے تعلیمی نظام بری طرح متاثر ہو رہا ہے، خاص طور پر امتحانات کے نظام پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
BulletsIn
-
نیپال میں بدھ کو اساتذہ کی ہڑتال کا پندرھواں دن ہے۔
-
تمام سرکاری اور نجی اسکول بند ہیں، اور اساتذہ کاٹھمنڈو کی سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں۔
-
حکومت نے دباؤ میں آکر پارلیمنٹ کا بجٹ اجلاس 25 اپریل سے بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔
-
وزیر تعلیم ودیا بھٹارائی نے اساتذہ سے ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔
-
اساتذہ کی ہڑتال کے باعث دسویں جماعت کے امتحانات کی جانچ متاثر ہوئی ہے۔
-
بارہویں جماعت کے امتحانات میں بھی تاخیر کا خدشہ ہے۔
-
حکومت نے ایجوکیشن ایکٹ میں ترمیم اور مطالبات کی منظوری کی یقین دہانی کرائی ہے۔
-
اساتذہ کی فیڈریشن حکومت کی زبانی یقین دہانیوں پر عدم اعتماد کا اظہار کر رہی ہے۔
-
اساتذہ کا کہنا ہے کہ ابھی بل صرف پارلیمانی کمیٹی میں ہے اور منظوری میں وقت لگ سکتا ہے۔
-
فیڈریشن نے دیگر علاقوں کے اساتذہ سے بھی کاٹھمنڈو پہنچ کر احتجاج میں شامل ہونے کی اپیل کی ہے۔
