ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری مذاکرات کی تازہ ترین صورت حال میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے اپنی پالیسی کا اعلان کیا ہے۔ امریکی حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی اور ایران کو اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے مزید سخت شرائط پر بات چیت کرنے کی ضرورت ہے۔
BulletsIn
-
ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کے چوتھے دور کی تاریخ ابھی تک غیر واضح ہے۔
-
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر ختم کرنے کی اپنی پالیسی کی سرخ لکیر واضح کی ہے۔
-
ٹرمپ نے یہ دوٹوک اعلان کیا کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیار یا ایٹمی بم حاصل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
-
امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان، ٹیمی بروس نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ٹرمپ کا موقف سخت ہے۔
-
ٹیمی بروس کے مطابق، ٹرمپ تہران سے نمٹنے کے لیے نئی تجاویز سننے کے لیے تیار ہیں۔
-
امریکی صدر چاہتے ہیں کہ جو بھی معاہدہ طے پائے، وہ مستقل نوعیت کا ہو۔
-
ٹیمی بروس نے کہا کہ ایرانی حکومت کو ٹرمپ کے موقف کو سنجیدگی سے لینا پڑے گا۔
-
ٹرمپ نے ایرانی فریق کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔
-
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ ایران کو یورینیم کی افزودگی، میزائل کی ترقی اور دہشت گرد گروپوں کی حمایت ترک کرنی ہو گی۔
-
روبیو نے مزید کہا کہ امریکہ تمام ایرانی جوہری تنصیبات، حتیٰ کہ فوجی مقامات تک، معائنہ کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔
