ڈھاکہ، 20 فروری ۔ بنگلہ دیش کے بکولتلہ علاقے میں منگل کی دوپہر بالادستی کی لڑائی میں سات افراد زخمی ہو گئے۔ تمام کا تعلق حکمراں جماعت عوامی لیگ سے ہے۔ یہ واقعہ منشی گنج صدر کے ادھارا یونین کے بکولتلہ میں دوپہر 12 بجے پیش آیا۔ عوامی لیگ کے دونوں دھڑوں نے ایک دوسرے پر بندوقیں تان لیں۔ دیسی ساختہ بم پھینکے۔ تین افراد گولیوں اور سات بموں سے زخمی ہوئے۔
بنگلہ دیشی اخبار ڈھاکہ ٹریبیون نے اپنی رپورٹ میں عینی شاہدین اور پولیس کے حوالے سے بتایا ہے کہ بکولتلہ ہائی اسکول سے ملحقہ علاقے میں فائرنگ اور بم دھماکے سے خوف وہراس پھیل گیا۔ یہ تنازعہ ادھارا یونین عوامی لیگ کے جنرل سکریٹری سورج میاں اور اسی یونین کے وارڈ نمبر 2 کے صدر علی حسین سرکار کے درمیان علاقائی غلبہ پر ہوا۔ علی حسین کے گروپ کے شکیل (22)، گہنا (25) اور ایانول (35) کو گولیاں لگی ہیں ، جن میں سے شکیل اور گہنا کی حالت تشویشناک ہے۔ انہیں منشی گنج جنرل اسپتال سے ڈھاکہ میڈیکل کالج اسپتال بھیج دیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اس کے بعد علی حسین کے حامیوں نے ان کے مخالفین کی پانچ دکانوں میں توڑ پھوڑ کی اور دیسی ساختہ بم پھینک کر دھماکے کیے۔ سورج میاں کا کہنا ہے کہ ان کے حامیوں کی تقریباً سات دکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ کم از کم 20 بمپھینکے گئے۔ علی حسین سرکار نے الزام لگایا ہے کہ سورج کے حامیوں نے اس کے لوگوں پر گھات لگا کر حملہ کیا۔
منشی گنج کے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (صدر سرکل) تھنڈر خیر الحسن نے کہا کہ یہ واقعہ اقتدار کے تنازعہ کی وجہ سے پیش آیا۔ اطلاع ملنے کے بعد علاقے میں اضافی پولیس فورس تعینات کر دی گئی ہے۔ صورتحال اب قابو میں ہے۔ تحقیقات کے بعد قانونی کارروائی شروع کی جائے گی۔
