واشنگٹن، 23 اکتوبر – امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے اتوار کو کہا کہ ایرانی مداخلت کی وجہ سے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کا امکان ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اگر امریکی فوجی اہلکاروں یا مسلح افواج کو نشانہ بنا کر کوئی کارروائی کی گئی تو بائیڈن انتظامیہ جواب دینے کے لیے تیار ہے۔
بلنکن نے کہا کہ امریکہ کشیدگی نہیں بڑھانا چاہتا۔ نہ ہی ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے فوجی اہلکار گولہ بازی کی زد میں آئیں۔ لیکن خدشہ ہے کہ ایران کی طرف سے شامل جنگجو ہمارے فوجی اہلکاروں کو نشانہ بنا کر کشیدگی میں اضافہ کریں گے۔ ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہم اپنے لوگوں کی مو¿ثر طریقے سے حفاظت کر سکیں اور ضرورت کے وقت فیصلہ کن جواب دے سکیں۔
قابل ذکر ہے کہ اسرائیل نے غزہ کے علاقے میں جوابی کارروائی تیز کر دی ہے۔ اسرائیلی جنگی طیاروں نے اتوار کو غزہ کے علاقے میں مختلف اہداف کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ دو ہوائی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا۔
اسرائیل نے لبنانی دہشت گرد تنظیم حزب اللہ کے ٹھکانوں پر بھی مسلسل گولہ باری کی ہے۔ حزب اللہ کو خبردار کرتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو نے اپنے فوجیوں سے کہا کہ اگر حزب اللہ نے جنگ شروع کی تو یہ ایک بہت بڑی غلطی ثابت ہو گی کیونکہ ہم اسے اتنا زوردار جھٹکا دیں گے جس کا اس نے تصور بھی نہیں کیا ہوگا۔یہ اس کے اور لبنان دونوں کے لیے تباہ کن ہوگا۔
