نیروبی، یکم جنوری (ہ س)۔ صومالی لینڈ، صومالیہ کا ایک الگ ہونے والا علاقہ ہے، نے واضح طور پر ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے کہ اس نے اسرائیل سے آزادی کو تسلیم کرنے کے بدلے میں فلسطینیوں کو آباد کرنے یا اپنی سرزمین میں اسرائیلی فوجی اڈہ قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ صومالی لینڈ کی حکومت نے واضح کیا کہ اسرائیل کے ساتھ اس کا معاہدہ صرف سفارتی معاملات تک محدود ہے۔
صومالی صدر حسن شیخ محمد نے انٹیلی جنس رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے 31 دسمبر کو ایک ٹی وی انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ صومالی لینڈ نے اسرائیل کی تین شرائط قبول کر لی ہیں: فلسطینیوں کی آباد کاری، خلیج عدن میں فوجی اڈے کا قیام، اور ابراہم معاہدے میں شامل ہونا۔
ان دعوؤں کے جواب میں صومالی لینڈ کی وزارت خارجہ نے سوشل میڈیا پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ فلسطینیوں کی آباد کاری اور فوجی اڈے سے متعلق الزامات مکمل طور پر بے بنیاد ہیں اور ان کا مقصد عالمی برادری کو گمراہ کرنا ہے۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ صومالی لینڈ آبنائے باب المندب کے قریب اپنے تزویراتی مقام کی وجہ سے علاقائی سیاست میں اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ صومالی لینڈ نے یکطرفہ طور پر 1991 میں آزادی کا اعلان کیا تھا اور اس کے بعد سے اس نے نسبتاً مستحکم انتظامیہ، اپنی کرنسی اور حفاظتی نظام تیار کیا ہے۔
—————
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی
