حماس کے حملوں میں ہلاک ہونے والے نیپالیوں کے اہل خانہ کو تاحیات مالی امداد فراہم کرے گا اسرائیل
نیپال، 14 مارچ ۔ اسرائیلی حکومت فلسطینی جنگجو تنظیم حماس کے حملے میں ہلاک ہونے والے نیپالی شہریوں کے اہل خانہ کو تاحیات مالی امداد فراہم کرے گی۔ نیپال میں اسرائیل کے سفیر حنان گوڈر نے وزیر خارجہ نارائنکاجی شریسٹھ سے ملاقات کی اور انہیں حکومت کے فیصلے سے آگاہ کیا۔
گوڈر نے وزیر خارجہ کو بتایا ہے کہ امداد کی پہلی قسط متاثرین کے اہل خانہ کو فراہم کر دی گئی ہے۔ اسرائیل پر حماس کے حملے میں تقریباً 10 نیپالی شہری مارے گئے ہیں۔ ان میں زیادہ تر زرعی یونیورسٹی کے طلبا تھے لیکن کنچن پور ضلع کے طالب علم وپن جوشی کے بارے میں ابھی تک کوئی خبر نہیں ملی ہے۔ نہ تو ان کی لاش ملی ہے اور نہ ہی حماس نے ان کی اسیری کے بارے میں کوئی اطلاع دی ہے۔ حالانکہ اسرائیلی حکومت نے وپن جوشی کے خاندان کو مالی امداد بھی فراہم کی ہے۔ اسرائیلی سفیر نے کہا ہے کہ جب تک ان کا سراغ نہیں مل جاتا، ان کے خاندان کو باقاعدگی سے مالی امداد فراہم کی جائے گی۔
اسرائیلی حکومت نے بھی اس ماہ سے ان 134 افراد کے خاندانوں کو ماہانہ الاؤنس دینا شروع کر دیا ہے جو ابھی تک حماس کے کنٹرول میں ہیں۔ سفیر گوڈر نے کہا کہ اسرائیلی قانون کے تحت اگر وہاں مقیم کوئی بھی غیر ملکی شہری دہشت گردانہ حملے میں ہلاک ہو جاتا ہے تو اس کے خاندان کو اسرائیلی شہریوں کی طرح تمام سہولیات ملتی رہیں گی۔
