پاکستان کے صوبہ پنجاب میں کم عمری کی شادی کو روکنے کی حکومتی کوششیں ناکام رہی ہیں۔ حال ہی میں شیخوپورہ کے علاقے میں پانچ سالہ لڑکی کی شادی 13 سالہ لڑکے سے کی گئی۔ اس واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس نے کارروائی کی اور متعدد افراد کو گرفتار کیا۔ تفصیلات درج ذیل ہیں:
BulletsIn
- پنجاب کے شیخوپورہ میں پانچ سالہ لڑکی کی شادی 13 سالہ لڑکے سے کر دی گئی۔
- پولیس کی مداخلت پر باراتی اور دلہن کے گھر والے موقع سے فرار ہو گئے۔
- پولیس نے مختلف مقامات پر چھاپے مارے اور شادی کا اہتمام کرنے والے ملزمان کو گرفتار کر لیا۔
- کم عمری کی شادی میں ملوث دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے مزید چھاپے جاری ہیں۔
- پنجاب میں 16 سال سے کم عمر کی شادی غیر قانونی ہے۔
- چائلڈ میرج ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
- ایف آئی آر میں بتایا گیا ہے کہ بچوں کی زبردستی شادی کی جا رہی تھی۔
- بچوں کے دادا نے اعتراف کیا کہ وہ اپنے پوتے کی شادی کر رہے تھے۔
- پنجاب چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2024 کے تحت 18 سال سے کم عمر کی شادیوں کو روکنے کے لیے قانون بنایا گیا ہے۔
- بعض قدامت پسند مذہبی ادارے کم عمری کی شادی کی حمایت کرتے ہیں، جن میں اسلامی نظریاتی کونسل بھی شامل ہے۔ مولانا محمد خان شیرانی نے پارلیمنٹ سے شادی کی کم از کم عمر میں اسلامی عقائد کے مطابق تبدیلیاں کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
