یروشلم، 14 اکتوبر ۔ رواں ماہ کی سات تاریخ کو فلسطین کی جنگجو تنظیم حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد غزہ پٹی میں قبرستان جیسی خاموشی ہے۔ ہر طرف بارود کی بو ہے۔ ہر طرف گدھ آسمان پر منڈلا رہے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں اپنا محاذ کھول دیا ہے۔ یہ اطلاع میڈیا رپورٹس میں دی گئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق بکتر بند گاڑیاں اور ٹینک گرج رہے ہیں۔ اس لڑائی میں دونوں فریقوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ اسرائیل میں اب تک 1,300 اور غزہ میں 1,900 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ غزہ کی پٹی میں اسرائیل نے حماس کے خلاف آسمان سے زمین تک بمباری اور براہ راست لڑائی کے ذریعے جنگجووں کو کچلنا شروع کر دیا ہے۔ غزہ میں فوج کی جانب سے چارج سنبھالنے کے بعد وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ یہ ‘صرف شروعات’ ہے۔ انہوں نے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ فوری طور پر غزہ پٹی سے نکل جائیں۔ اس پر اقوام متحدہ کے سربراہ نے انہیں ‘دوبارہ سوچنے’ پر زور دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 7 اکتوبر سے جاری لڑائی میں اسرائیل اپنے 247 فوجیوں کو بھی کھو چکا ہے۔ غزہ پر اسرائیلی حملے میں اب تک 1,900 سے زائد افراد ہلاک اور 6,388 کے قریب زخمی ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ غزہ میں 4.23 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ جمعہ کی رات وسطی اسرائیل میں سائرن بجائے گئے جس کی وجہ سے لوگ اپنی جان بچانے کے لیے گھر بار چھوڑ کر تہہ خانوں کی طرف بھاگنے لگے۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے رات کے وقت غزہ میں حماس کے ٹھکانوں پر تباہی مچائی۔ تیز فائرنگ ہوئی۔ اس کے بعد چاروں طرف شور مچ گیا۔ قبل ازیں گزشتہ روز اسرائیل نے کہا تھا کہ جمعرات کی رات کیے گئے فضائی حملوں میں حماس کے 750 اہداف بشمول سرنگیں، ملٹری کمپلیکس اور ہتھیاروں کے ذخیرے کو تباہ کر دیا گیا۔ ایک اور میڈیا رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مصر نے جزیرہ نما سینائی میں اپنی سرحد کے ساتھ ہزاروں سیکورٹی فورسز کو تعینات کر دیا ہے۔ مصر کو خدشہ ہے کہ غزہ سے بڑی تعداد میں فلسطینی پہنچ سکتے ہیں۔
