کولکاتہ ، ۔
بنگلہ دیش کے وزیر مملکت برائے جہاز رانی خالد محمود چودھری نے ہندوستان پر زور دیا ہے کہ وہ بنگلہ دیشی شہریوں کے لیے ویزا کے عمل کو آسان بنائے۔ انہوں نے یہ مطالبہ جمعرات کو انڈیا-بنگلہ دیش فرینڈشپ ایسوسی ایشن کے پروگرام میں کیا۔ اس پروگرام میں ایسوسی ایشن کے صدر ششیر باجوریا ، کولکاتہ میں بنگلہ دیش کے ڈپٹی ہائی کمشنر عندلیب الیاس اور شمک لہڑی موجود تھے۔چودھری نے کہا کہ بنگلہ دیش ادویات جیسی اہم چیزوں کے لیے ہندوستان ، خاص طورپرمغربی بنگال پر منحصر ہے۔ ویزہ جلد نہ ملنے سے شہریوں کو پریشانی کا سامنا ہے۔ کل میں نے اس معاملے پر بنگلہ دیش میں ہندوستانی سفیر پرنائے ورما سے بات کی۔ انہوں نے مدد کی یقین دہانی کرائی ہے۔
انہوں نے کہا ’ ہم بنگلہ دیش میں کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ہندوستان کی حمایت کے لئے شکر گزار ہیں۔ ” اس تناظر میں انہوں نے آلو پیاز کے قحط کے دوران حکومت ہند کی طرف سے اٹھائے گئے ہنگامی اقدامات کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور شیخ حسینہ نے دو طرفہ تعلقات کو بلندی پر پہنچایا ہے۔ دونوں ممالک بنگالی زبان اور ثقافتی اتحاد سے جڑے ہوئے ہیں۔ ہماری رگوں میں وہی خون دوڑ رہا ہے۔ باہمی اعتماد کا رشتہ ہمیں ایک دوسرے سے جوڑتا ہے۔ اس کی شروعات بنگ بندھو شیخ مجیب الرحمن نے کی تھی۔بنگلہ دیشی وزیر نے کہا،بنگلہ دیش ملک کی آزادی میں ہندوستان کے تعاون کو ہمیشہ یاد رکھتا ہے۔ اس جنگ میں ہندوستان کے 12 ہزار لوگ شہید ہوئے۔ یہ مت بھولنا۔ دس ملین سے زیادہ مہاجرین نے ہندوستان میں پناہ لی، خاص طور پر مغربی بنگال اور تریپورہ میں۔ 10 لاکھ روہنگیاوں کو پناہ دینے سے ہمیں اندازہ ہو سکتا ہے کہ یہ انتظام کتنا مشکل ہے۔ ہندوستان نے ہمیں چار طریقوں سے جیتنے میں مدد کی۔ میں قید شیخ مجیب الرحمن کی رہائی میں ہندوستان کے کردار کو احترام کے ساتھ یاد کرتا ہوں۔
کولکاتہ میں بنگلہ دیش کے ڈپٹی ہائی کمشنر عندلیب الیاس نے اپنی مختصر تقریر میں کہا ” محض زبان کا عالمی دن منانے سے ہم اپنا فرض ادا نہیں کر رہے ہیں۔ ہمارا بین الاقوامی زبان کا مرکز ڈھاکہ میں ہے۔ وہاں مختلف زبانیں رائج ہیں۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پبلک فنانس اینڈ پالیسی کے سابق ڈائریکٹر اشوک لہڑی نے بنگلہ دیش میں اپنے آبائی گھر کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک ہمیشہ سے روایتی طور پر ایک دوسرے سے جڑے رہے ہیں۔
