
حماس نے جنگ بندی کے دوسرے دن اسرائیلی آٹھ بچوں اور پانچ خواتین کو رہا کیا
غزہ، 26 نومبر (ہ س)۔ قطر کی ثالثی سے غزہ کی پٹی میں فلسطینی دہشت گرد تنظیم حماس اور اسرائیل کے درمیان شروع ہونے والی جنگ بھلے ہی چار دن کے لیے رکی ہو لیکن خدشات کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ آج (اتوار) جنگ بندی کا تیسرا دن ہے۔ اس کی مدت کل ختم ہو جائے گی۔
حماس نے جنگ بندی کے دوسرے دن یرغمالیوں کو رہا کرنے میں تاخیر کی جس کی وجہ سے ایک لمحے کے لیے ایسا لگا کہ شاید جنگ بندی ٹوٹ جائے۔ آخر کار دیر رات اس نے 13 اسرائیلی شہریوں کو 50 دن کی قید کے بعد رہا کر دیا۔ ان میں آٹھ بچے، چار خواتین اور ایک لڑکی شامل ہیں۔
مقامی اخبار ٹائمز آف اسرائیل نے ملکی حکام کے حوالے سے تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کو یرغمالیوں کی فہرست موصول ہو گئی ہے جسے آج (اتوار) جاری کیا جائے گا۔ ان کے اہل خانہ کو اطلاع دے دی گئی ہے۔ حماس نے اگلے روز چار تھائی شہریوں کو بھی رہا کر دیا۔ حماس کی قید میں اب بھی 195 افراد ہیں۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق اسرائیلی حکام نے اتوار کی صبح کہا کہ حماس نے فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے بدلے اسرائیلی اور غیر ملکی یرغمالیوں کے ایک اور گروپ کو رہا کیا۔ حماس نے ان افراد کی رہائی کے لیے دیے گئے وقت میں ایک گھنٹے کی تاخیر کی۔ اس سے یہ خدشہ بڑھ گیا کہ غزہ میں جنگ بندی مکمل طور پر ٹوٹ سکتی ہے۔ اسرائیلی جیل حکام نے بتایا کہ اتوار کی صبح 39 فلسطینی قیدیوں کو رہا کر دیا گیا۔ اسی طرح کا تبادلہ جمعہ کو بھی ہوا تھا۔
نیو یارک ٹائمز نے دوسرے روز حماس کے حوالے سے کہا کہ یرغمالیوں کی رہائی میں تاخیر اسرائیل کی جانب سے معاہدے کے بعض حصوں سے انکار کی وجہ سے ہوئی۔ حماس نے کہا کہ اسرائیل نے شمالی غزہ تک خاطر خواہ امداد پہنچنے کی اجازت نہیں دی۔ نیز فلسطینی قیدیوں کو شرائط کے مطابق رہا نہیں کیا گیا۔ اس پر اسرائیل ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) نے کہا ہے کہ حماس کا دعویٰ غلط ہے۔ جنگ بندی کی شرائط پر پوری طرح عمل کیا جا رہا ہے۔ رفح کراسنگ کھلی ہے۔ انسانی امداد کے 200 ٹرک غزہ پہنچ چکے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
/شہزاد
