پشوپتی ناتھ مندر ٹرسٹ میں عیسائی خاتون کی تقرری پر پارلیمانی کمیٹی کا اعتراض
تقرری سے متعلق تمام دستاویزات کمیٹی کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت
کٹھمنڈو، 29 دسمبر (ہ س)۔ نیپال کی پارلیمانی کمیٹی نے ہندو عقیدے کے مرکز پشوپتی ناتھ مندر ٹرسٹ میں عیسائی خاتون کی تقرری کے خلاف احتجاج کا اظہار کیا ہے۔ ٹرسٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے عہدے پر تازہ ترین تقرری کو لے کر ملک بھر میں ہنگامہ برپا ہے۔
حال ہی میں ثقافتی اور سیاحتی وزیر کی طرف سے لکشمی پن نامی ایک خاتون کو پشوپتی ایریا ڈیولپمنٹ فنڈ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے عہدے پر مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اس سے قبل پن کی تقرری کے حوالے سے ان کی اہلیت پر سوالات اٹھائے گئے تھے، جو ماو نواز پارٹی کی ایک سرگرم کارکن اور پارٹی رکن تھیں۔ جب مقامی میڈیا میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ لکشمی پن عیسائی ہیں تو معاملہ پارلیمانی کمیٹی تک پہنچا۔
وزیر ثقافت سودن کرانتی جنہوں نے عیسائیت کو نہ ماننے والوں کو غدار قرار دیا تھا۔ ابھی اس تنازعہ سے باہر بھی نہیں نکل پائے تھے کہ پشوپتی ناتھ ٹرسٹ میں ایک عیسائی خاتون کی تقرری کو لے کر ایک بار پھر تنازعہ میں گھر گئے ہیں۔ پارلیمانی کمیٹی برائے سیاحت کے اجلاس میں ارکان پارلیمنٹ نے ہندووں کے عقیدے کے مرکز پشوپتی ناتھ مندر ٹرسٹ میں عیسائی خاتون کی تقرری کی نہ صرف مخالفت کی بلکہ ان کی تقرری سے متعلق تمام دستاویزات پارلیمانی کمیٹی میں تین دن کے اندر پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔
پارلیمانی کمیٹی کی میٹنگ کے بعد کمیٹی کے چیئرمین راج کشور یادو کی طرف سے جاری ہدایات میں لکشمی پن کی تقرری سے متعلق تمام دستاویزات تین دن کے اندر جمع کرنے کو کہا گیا ہے۔ کمیٹی کے رکن رہے راشٹریہ پرجاتنتر پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر دھول شمشیر رانا نے کہا کہ جس گھر میں لکشمی پن رہتی ہیں، اس کے مالک نے مقامی میڈیا کو ان کے عیسائی ہونے کا ثبوت فراہم کیا ہے کہ وہ باقاعدگی سے چرچ جا کر پرارتھنا کرتی ہیں۔ رکن پارلیمنٹ رانا نے کہا کہ اگر یہ سچ ہے تو ٹرسٹ میں لکشمی پن کی تقرری کروڑوں ہندووں کے مذہبی جذبات پر حملہ ہے۔ نیپال کے وزیر ثقافت پر عیسائیت کو فروغ دینے اور پشوپتی ناتھ ٹرسٹ سے لومبینی ٹرسٹ تک عیسائیوں کی دراندازی کا الزام ہے۔
ہندوستھان سماچار
/شہزاد
