کوئٹہ (بلوچستان)، 30 ستمبر (ہ س) پاک فوج نے بلوچستان میں ایک بڑا سرچ آپریشن شروع کر دیا، جہاں آزادی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ آپریشن کے دوران 50 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ یہ کارروائی مستونگ ضلع دشت اسور کے علاقے کولپور میں کی گئی۔ یہ الزام ہے کہ سیکورٹی فورسز نے کچھ گاؤں والوں پر حملہ بھی کیا۔
دی بلوچستان پوسٹ (پشتو زبان) نے پیر کے روز اطلاع دی ہے کہ پاکستانی فوج نے اتوار کو کولپور میں بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کیا۔ اس دوران سی ٹی ڈی، انٹیلی جنس ایجنسی کے اہلکاروں اور پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر گھروں کی تلاشی لی۔ علاقائی ذرائع کے مطابق جمعہ خان گاؤں، بنگلزئی گاؤں اور سرپارہ گاؤں میں سیکورٹی فورسز نے گھروں میں گھس کر مکینوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ 50 سے زائد مردوں اور نوجوانوں کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر لے جایا گیا۔
دشت میں زیر حراست افراد کے لواحقین کے مطابق انہیں پیر کو اطلاع ملی کہ ان کے پیاروں کو کوئٹہ جیل میں نظر بند کر دیا گیا ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ گرفتار کیے گئے تمام افراد کو جیل بھیجا گیا ہے یا نہیں۔ لواحقین نے الزام لگایا کہ سیکورٹی فورسز نے گھروں میں توڑ پھوڑ کی اور خواتین اور بچوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ گزشتہ چند دنوں سے خضدار، قلات اور مستونگ اضلاع سے زمینی اور فضائی کارروائیوں کی اطلاعات آرہی ہیں۔ پیر کو خضدار کی تحصیل جھاڑی میں بھی زمینی اور فضائی آپریشن کی اطلاعات ہیں۔ ان کارروائیوں پر ابھی تک کوئی سرکاری تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔
مزید برآں پاکستانی فوج نے تحصیل بلیدہ کے علاقے گردانک میں مقامی دکاندار کو حراست میں لے لیا ہے۔ دکاندار کی شناخت شیر علی ولد واشی کے نام سے ہوئی ہے۔ اہل خانہ نے لاپتہ شیر علی کی بحفاظت واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ پاکستانی فوج کے ہاتھوں جبری طور پر لاپتہ کیے گئے چار افراد کی لاشیں رواں ماہ بلیدہ سے ملی تھیں۔
—————
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی
