نیویارک،26جولائی(ہ س)۔اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام نے اعلان کیا ہے کہ غزہ کی پٹی کے تقریباً ایک تہائی باشندے کئی دنوں سے نہیں کھا رہے ہیں، پروگرام نے خبردار کیا کہ غذائی قلت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔اے ایف پی کے مطابق پروگرام نے ایک بیان میں کہا کہ غزہ میں غذائی بحران مایوسی کی بے مثال سطح پر پہنچ گیا ہے اور ہر 3 میں سے 1 فرد کئی دنوں سے نہیں کچھ کھا رہا۔ غذائی قلت مزید بگڑ گئی ہے اور 90,000 سے زیادہ خواتین اور بچوں کو فوری علاج کی ضرورت ہے۔ اگلے چند ماہ میں 470,000 فلسطینیوں کو غزہ کی پٹی میں تباہ کن قحط کا سامنا ہونے کی توقع ہے۔ورلڈ فوڈ پروگرام نے خبردار کیا کہ انسانی امداد کی کمی کی وجہ سے لوگ مر رہے ہیں۔ غذائی امداد ہی آبادی کے لیے خوراک حاصل کرنے کا واحد ذریعہ ہے جب خوراک کی قیمتیں ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کے لیے انسانیت اور ہمدردی کی کمی کی شدید مذمت کی اور کہا کہ غزہ کی پٹی نہ صرف ایک انسانی بحران کا شکار ہے بلکہ ایک اخلاقی بحران ہے جو عالمی ضمیر کو چیلنج کر رہا ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کو ایک ویڈیو پیغام میں گوتریس نے کہا کہ میں بین الاقوامی برادری میں بہت سے لوگوں کی جانب سے دیکھی جانے والی بے عملی اور بے حسی اور انسانیت کی کمی کی کوئی وضاحت نہیں کر سکتا۔ یہ صرف ایک انسانی بحران نہیں، یہ ایک اخلاقی بحران ہے جو عالمی ضمیر کو چیلنج کر رہا ہے۔ ہم ہر موقع پر آواز بلند کرتے رہیں گے۔امدادی تنظیموں نے غزہ کی پٹی میں شدید غذائی قلت کا شکار بچوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ غزہ کی پٹی پر اسرائیل نے اپنی جنگ کے دوران مارچ میں محاصرہ سخت کر دیا تھا اور حماس کے ساتھ جنگ کے دوران امداد کے داخلے کو روک دیا تھا۔ یہ محاصرہ دو ماہ بعد قدرے نرم کیا گیا۔اس کے بعد سے پٹی میں داخل ہونے والی امداد غزہ ہیومینیٹیرین فاونڈیشن کے کنٹرول میں آ گئی ہے جس کو اسرائیل اور امریکہ کی حمایت حاصل ہے۔ اس فاونڈیشن نے اقوام متحدہ کے زیر انتظام تقسیم کے نظام کی جگہ لے لی ہے۔ امدادی تنظیموں اور اقوام متحدہ نے اس فاونڈیشن کے ساتھ کام کرنے سے انکار کر دیا ہے اور اس پر اسرائیلی فوجی مقاصد کے ساتھ ہم آہنگی کا الزام لگایا ہے۔گوتیرس نے کہا کہ شروع ہی سے میں نے حماس کے 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر ہونے والے ہولناک حملے کی بار بار مذمت کی ہے۔ اس حملے نے جنگ کو بھڑکایا لیکن اس کے بعد سے ہونے والی ہلاکتوں اور تباہی کی بڑھتی ہوئی تعداد کو کچھ بھی جواز نہیں دے سکتا۔ ان کا حجم اور دائرہ ہمارے جدید دور میں دیکھی گئی کسی بھی چیز سے بڑھ کر ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بچے جنت میں جانے کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ وہاں کم از کم کھانا ہے۔ ہم اپنے عملے کے ساتھ ویڈیو کالز کر رہے ہیں۔ یہ بچے ہماری آنکھوں کے سامنے بھوکے مر رہے ہیں لیکن الفاظ بھوکے بچوں کو سیر نہیں کرتے۔ گوتیرس نے 27 مئی کے بعد سے خوراک کی امداد حاصل کرنے کی کوشش میں ایک ہزار سے زیادہ فلسطینیوں کی ہلاکت کی بھی مذمت کی۔ 27 مئی کو غزہ ہیومینیٹیرین فاو¿نڈیشن نے اپنا کام شروع کیا تھا۔گوتریس نے تبصرہ کیا کہ ہمیں حرکت میں آنے کی ضرورت ہے، فوری اور مستقل جنگ بندی، تمام قیدیوں کی فوری اور غیر مشروط رہائی، اور فوری اور بلا روک ٹوک امداد کی رسائی کے لیے متحرک ہونے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر اسرائیل اور حماس جنگ بندی کے معاہدے پر پہنچ گئے تو اقوام متحدہ غزہ میں انسانی ہمدردی کی کارروائیوں میں نمایاں اضافہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan
