یروشلم، 15 اکتوبر (ہ س)۔ رواں ماہ کی 7 تاریخ کو فلسطین کی جنگجو تنظیم حماس کی جانب سے اسرائیل پر بغیر کسی اشتعال کے حملے کے بعد پوری غزہ کی پٹی میں بدامنی کے شعلے تیزی سے بھڑک رہے ہیں۔ اسرائیل کی فوج حماس کے جنگجووں کو تباہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ حماس کے ٹھکانوں کو تباہ کرنے کے لیے اسرائیل نے رات بھر فضائی حملے کیے اور راکٹ اور میزائل داغے۔ دریں اثناء اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے غزہ کی پٹی میں فرنٹ لائن پر موجود اسرائیلی دفاعی دستوں تک پہنچ کر فوجیوں کے حوصلے بلند کیے ہیں۔ یہ اطلاع میڈیا رپورٹس میں دی گئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق حماس کا جنگجو علی قادی اسرائیلی حملے میں مارا گیا۔ وہ حماس کی نخبہ کمانڈو فورس کا کمپنی کمانڈر تھا۔ اسرائیل نے ہفتے کی رات شمالی غزہ پر فضائی حملے کیے۔ اس کے علاوہ جنوبی اسرائیلی شہر سدروت کے قریب گنجان آباد علاقے میں فائرنگ کے باعث آسمان دھویں سے بھر گیا۔ دھماکوں کی وجہ سے چاروں طرف اندھیرا چھا گیا۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم کی اگلے مورچوں پر تعینات سیکیورٹی فورسز سے ملاقات کے بعد فلسطین سے متاثرہ علاقے میں زمینی جنگ کی آوازیں سنائی دینے لگی ہیں۔ رات بھر کی بمباری نے حماس کی مضبوط خطوط کو توڑ دیا۔ غزہ میں صحت کے حکام نے بتایا کہ 2,200 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ اسرائیلی فوج نے پہلی بار کہا ہے کہ حماس کے ہاتھوں اغوا کیے گئے کچھ افراد کی لاشیں مل گئی ہیں۔ اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس کا حتمی ہدف حماس کا صفایا کرنا ہے۔
ہندوستھان سماچار
