ریاض،06ستمبر(ہ س)۔سعودی عرب نےاسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کی جانب سے فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے بے دخل کرنے سے متعلق بار بار دیے جانے والے بیانات کو سخت ترین الفاظ میں مسترد کر دیا ہے۔ان بیانات میں حتیٰ کہ رفح کراسنگ کے راستے فلسطینیوں کو نکالنے کی بات بھی شامل ہے، جبکہ قابض اسرائیل مسلسل محاصرہ اور بھوک کو ہتھیار بنا کر جبری ہجرت پر مجبور کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ سعودی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق یہ اقدام عالمی قوانین، انسانی اصولوں اور بنیادی اقدار کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ سعودی عرب نے اس موقع پر مصر کے ساتھ اپنے مکمل تعاون اور یکجہتی کا بھی اظہار کیا۔مملکت نے زور دیا کہ عالمی برادری خصوصاً سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کو چاہیے کہ وہ فلسطینی عوام اور ان کی سرزمین کے خلاف جاری اسرائیلی جارحانہ پالیسیوں کو روکنے کے لیے فوری کردار ادا کریں اور یہ واضح کیا کہ کسی بھی صورت میں فلسطینیوں کی جبری ہجرت قبول نہیں کی جائے گی۔سعودی عرب نے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ قابض اسرائیل کو فلسطینی شہریوں کے خلاف نسل کشی اور سنگین مظالم پر جواب دہ ٹھہرایا جائے۔ سعودی عرب نے اس بات پر بھی زور دیا کہ فوری طور پر ان جرائم کو روکا جائے، فلسطینی عوام کو تحفظ فراہم کیا جائے اور ان کے جائز حقوق تسلیم کیے جائیں، جن میں سنہ1967ءکی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست کا قیام اور مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت تسلیم کرنا شامل ہے۔ خطے میں دیر پا امن کے لیے مسئلہ فلسطین کا منصفانہ حل ضروری ہے۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan
