آخر کار برطانوی پارلیمنٹ نے دو مہینوں کی جدوجہد کے بعد روانڈا کے نفرت کے قانون کو منظوری دے دی۔ اس سے قبل عام انتخابات سے پہلے وزیر اعظم ریشی سونک کو بڑی راحت مل گئی۔
وزیر اعظم سونک نے امید ظاہر کی کہ جولائی تک روانڈا کے لیے پروازیں شروع ہو جائیں گی۔ روانڈا نفرت کے قانون کو ان لوگوں پر لاگو کیا گیا تھا جو غیر قانونی طور پر برطانیہ پہنچتے تھے۔ اس کے تحت غیر قانونی افراد کو روانڈا بھیجا جائے گا، اس کے لیے وہاں کی حکومت کے ساتھ معاہدہ کیا گیا ہے۔
برطانوی حکومت نے اس کے لیے روانڈا کو کچھ اگرم بھگتانی بھی کر چکی ہے۔ تجویز کے تحت روانڈا بھیجنے کے بعد شارنارتھی برطانیہ کی شہریت کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ جنہیں منظوری ملتی ہے وہ لوگ برطانیہ میں قائم ہو جائیں گے، لیکن جن کی درخواست رد ہوتی ہے انہیں اپنے ملک بھیج دیا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق، 2022 میں برطانیہ میں چھوٹی ناوکاوں سے انگلینڈ کے سلسلہ کی پار کرنے والے 45,744 غیر قانونی افراد پہنچے تھے۔ برطانیہ کے اعلی سینیٹ لارڈس میں یہ قانون پھنسا ہوا تھا۔ آخر کار اس نے منگل کو انتخابی سینیٹ کامنز سینیٹ کی قیادت قبول کر لی۔ اس سے پہلے سوموار صبح وزیر اعظم سونک نے حیرت انگیز طریقے سے پریس کانفرنس کا انعقاد کیا اور لارڈس سینیٹ سے روانڈا قانون کو نہ روکنے کی اپیل کی۔
سپریم کورٹ نے بھی روانڈا قانون کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی سمجھتے ہوئے روک لگا دی تھی۔ سپریم کورٹ نے کہا، جب برطانیہ خود افریقی ملک روانڈا کو غیر محفوظ قرار دیتا ہے تو اس معاملہ میں افراد کو وہاں کیسے بھیجا جا سکتا ہے۔ اس پر حکومت نے روانڈا سیفٹی بل لے کر آیا۔ برطانیہ کے ہوم منسٹر جیمز کلیورلی نے ایکس پر پوسٹ کر کہا کہ د سیفٹی آف روانڈا بل کو پارلیمنٹ سے منظوری مل گئی ہے، بس کچھ دنوں میں یہ قانون بن جائے گا۔
For more updates follow our Whatsapp
and Telegram Channel ![]()
