واشنگٹن،11دسمبر(ہ س)۔
امریکی وزیر خارجہ بلنکن نے اتوار کے روز خبردار کیا کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی بحری جہازوں پر میزائل حملے نہ صرف اسرائیل اور امریکہ کے لیے بلکہ ا±ن درجنوں ممالک کے لیے بھی بڑا خطرہ بن گئے ہیں جو روزانہ کی بنیاد پر سامان کی نقل و حمل کے لیے اس بین الاقوامی آبی گزرگاہ پر انحصار کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کئی ملکوں کے بحری جہاز حوثیوں کے حملوں کے خطرے میں آگئے ہیں۔بلنکن نے مزید کہا کہ حوثیوں کی مالی امداد کو کمزور کرنے کے لیے پابندیوں کو مو¿ثر طریقے سے نافذ کیا گیا ہے۔ انہوں نے مستقبل میں حوثیوں کے خلاف کسی فوجی کارروائی کو بھی مسترد نہیں کیا۔اسی تناظر میں نیویارک ٹائمز نے اطلاع دی ہے کہ خطے میں ایران سے وابستہ ملیشیا مشرق وسطیٰ میں امریکی اور اسرائیلی اثاثوں پر حملے بڑھانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ اس منصوبہ بندی میں بحیرہ احمر میں کام کرنے والے امریکی ملکیتی بحری جہازوں پر حوثیوں کے حملے بھی شامل ہیں۔
اخبار نے نشاندہی کی کہ ایران بحیرہ احمر میں انٹیلی جنس معلومات اکٹھا کرنے کے لیے ایک بحری جہاز چلاتا ہے جس سے حوثیوں کو یہ تعین کرنے میں مدد ملتی ہے کہ کن جہازوں پر حملہ کیا جانا چاہیے۔غزہ جنگ کے حوالے سے بلنکن نے کہا کہ واشنگٹن اسرائیل کے ساتھ غزہ میں فوجی آپریشن اور اس کی مدت کے بارے میں بات کر رہا ہے۔ انہوں نے ایک پریس انٹرویو کے دوران مزید کہا کہ اسرائیل نے محفوظ علاقے بنانے کے اقدامات کے بارے میں بات کی ہے۔ تاہم امداد کی فراہمی کے لیے محدود جنگ بندی ہونی چاہیے۔
غزہ میں اسرائیلی آپریشن کے خاتمے کے مختلف منظرناموں کے بارے میں بات کرتے ہوئے بلنکن نے کہا کہ حماس ہتھیار ڈال سکتی ہے اور معاملہ ختم ہو جائے گا۔۔ یا جب فوجی آپریشن ختم ہو جائے گا تو ہمیں فلسطینی ریاست تک پہنچنا چاہیے۔ایک اور تناظر میں انہوں نے غزہ میں صحافیوں کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صحافی لڑائیوں کے دوران اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ لڑائیوں کے دوران ان کی حفاظت کی جائے۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امریکہ شہریوں کے تحفظ کے لیے کام کر رہا ہے اور وہ لوگوں کو پہنچنے والے نقصان کی حد کو جانتا ہے۔ لیکن بلنکن نے یہ بھی کہا کہ اس وقت اسرائیل حماس کے ساتھ حالت جنگ میں ہے اور ہمیں اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ اسے جنگ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو گولہ بارود بھیجنا بھی قوانین کے تابع ہے۔انہوں نے بات جاری رکھی اور کہا ہم اسرائیلیوں کے ہدف اور ان کے اعمال کے نتائج پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں۔ جو کچھ ہو رہا اور جو ہدف ہے اس کے درمیان فرق موجود ہے۔
ہندوستھان سماچار
