واشنگٹن، 16 جولائی (ہ س)۔ شام کے دارالحکومت دمشق میں اسرائیل کی جانب سے کیے گئے ایک بڑے فضائی حملے پر امریکا نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ حملے میں شامی فوج کے ہیڈ کوارٹر کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ یہ حملہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب جنوبی شام کے علاقے سویدا میں شامی فوج اور دروز کے مسلح گروپوں کے درمیان لڑائی شدت اختیار کر گئی ہے۔
سویدا میں جنگ بندی ٹوٹنے کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔ دریں اثناء اسرائیلی دفاعی دستوں نے شامی فوج کے قافلوں پر کئی سلسلہ وار حملے کئے ہیں۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ اقلیتی دروز برادری کے تحفظ کے لیے کارروائی کر رہا ہے۔
واشنگٹن سے جاری ایک بیان میں امریکا نے اس مداخلت کو علاقائی عدم استحکام میں اضافہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ شام کی خودمختاری اور اندرونی معاملات میں بیرونی مداخلت ناقابل قبول ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا، ہمیں تشویش ہے کہ اس طرح کے فوجی حملے تنازع کو مزید بھڑکا سکتے ہیں اور شہریوں کی حفاظت کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔
ساتھ ہی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی کہا کہ ہم ابھی اس معاملے پر کام کر رہے ہیں۔ میں نے ابھی فون پر متعلقہ فریقوں سے بات کی ہے۔ ہم اس بارے میں بہت فکر مند ہیں اور امید کرتے ہیں کہ آج کے بعد کچھ اپ ڈیٹس ملیں گے۔ لیکن ہم اس کے بارے میں بہت فکر مند ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکا چاہتا ہے کہ لڑائی رک جائے کیونکہ جنگ بندی کے معاہدے کے چند گھنٹے بعد ہی شامی حکومتی دستوں اور مقامی دروز کے جنگجوؤں کے درمیان جھڑپیں شروع ہوگئیں۔
اس پیش رفت نے مغربی ایشیا میں پہلے سے کشیدہ صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ نے بھی اپیل کی ہے کہ تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور بات چیت کے ذریعے حل کی طرف بڑھیں۔
—————
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی
