تہران،02ستمبر(ہ س)۔ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ان کا ملک یورپی ٹرائیکا (فرانس، جرمنی اور برطانیہ) کے اس فیصلے کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گا جس کے تحت ایران پر دوبارہ سے عالمی اور اقوامِ متحدہ کی پابندیاں (اسنیپ بیک) عائد کی جا رہی ہیں۔منگل کو پارلیمان کے کھلے اجلاس میں اپنی تقریر کے دوران قالیباف نے کہا کہ ہم جلد ہی ایک متفقہ قرارداد منظور کریں گے تاکہ ٹریگر میکانزم (اسنیپ بیک) کے مقابلے میں مو¿ثر جواب دیا جا سکے۔قالیباف نے زور دے کر کہا کہ یورپی ٹرائیکا کو ٹریگر میکانزم فعال کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ ان کے مطابق اقوامِ متحدہ کے فیصلے صرف کاغذ پر لکھے الفاظ نہیں ہیں، لیکن ان کا ایران کی معیشت پر کوئی بڑا اثر نہیں پڑے گا۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایرانی پارلیمان ایک لازمی قانون پر ووٹ دینے کی تیاری کر رہا ہے جس کے تحت ایران ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاو کی ممانعت کے معاہدے (این پی ٹی) سے نکل سکتا ہے۔گزشتہ ہفتے یورپی ٹرائیکا نے سلامتی کونسل کو مطلع کیا تھا کہ اگر تہران نے اقوامِ متحدہ کے معائنہ کاروں کو جون میں امریکی بم باری کا نشانہ بننے والی تین ایٹمی تنصیبات میں دوبارہ جانے کی اجازت نہ دی، تو وہ اسنیپ بیک میکانزم کے تحت پابندیاں بحال کر دیں گے۔ اس کے علاوہ ایران کو یہ بھی کہا گیا کہ وہ 60 فی صد افزودہ یورینیم کی تقریباً 400 کلوگرام مقدار کے بارے میں درست معلومات فراہم کرے۔ مزید یہ کہ واشنگٹن کے ساتھ براہِ راست اور تعمیری مذاکرات میں شریک ہو تاکہ ایک نئے جوہری معاہدے تک پہنچا جا سکے۔ایرانی حکام نے اس اقدام کو غیر قانونی، سیاسی اور امریکی احکامات پر مبنی قرار دیا۔ انھوں نے خبردار کیا کہ ’اسنیپ بیک‘ میکانزم کو فعال کرنے کے عالمی سطح پر تباہ کن نتائج ہوں گے اور یہ تہران اور عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے تعلقات کو بھی متاثر کرے گا۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan
