آج کل بالی ووڈ میں قوم پرست نظریے سے متاثر فلموں کا رجحان ہے۔ وویک اگنی ہوتری کی ‘ دی کشمیر فائلز ‘ کے بعد سے ’دی کیرالہ اسٹوری ‘اور ’ آرٹیکل 370‘ جیسے سلگتے ہوئے موضوعات پر کئی فلمیں بن چکی ہیں۔ حساس موضوعات پر فلمیں ریلیز ہوئیں اور انہیں شائقین کی جانب سے زبردست رسپانس ملا۔ جلد ہی فلم ’ بستر: دی نکسل اسٹوری‘ کے ذریعے لوگوں کے سامنے ایک مختلف تاریخ سامنے آئے گی۔ اب ایک اور متنازع فلم کا اعلان کیا گیا ہے۔’ مکاہل موویز‘اور ’ زی میوزک‘ جلد ہی ناظرین کے لیے فلم ’ جے این یو (جواہرلال نیشنل یونیورسٹی) لے کر آرہے ہیں۔ حال ہی میں اس فلم کا ایک پوسٹر جاری کیا گیا ہے اور اس پوسٹر میں ہم ہندوستان کا پورا نقشہ بھگوا رنگ میں دیکھ سکتے ہیں اور صاف نظر آرہا ہے کہ ملک کا یہ نقشہ ایک ہاتھ میں پابندی کی طرح پکڑا ہوا ہے۔
یہ فلم جواہر لال نہرو یونیورسٹی، دہلی پر مبنی ہونے کا امکان ہے۔ یہ واضح ہے کہ ہندوستانی سیاست میں اس یونیورسٹی کی شمولیت سے دائیں بازو اور بائیں بازو کے نظریات کے درمیان تناو¿ پیدا ہوسکتا ہے۔ مجموعی طور پر، توقع ہے کہ یہ فلم اس بات پر روشنی ڈالے گی کہ کس طرح اس یونیورسٹی نے ملک کی تقسیم کا پرچار کیا اور پھر مختلف چیزیں سامنے آئیں۔ فلم کا نام بھی ’ جہانگیر نیشنل یونیورسٹی ‘ہے۔ اس پوسٹر کو شیئر کرتے ہوئے کیپشن میں لکھا ہے ،’ تعلیم کے بند دروازوں کے پیچھے، اس ملک کو دائیں اور بائیں دو نظریات میں تقسیم کرنے کی سازش رچی جا رہی ہے۔ یہ لڑائی کون جیتے گا ؟’ اس فلم کو پرتیما دتہ نے پروڈیوس کیا ہے اور ہدایت کار ونے شرما ہیں۔ تاہم ابھی تک فلم کے بارے میں باضابطہ معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق فلم میں روی کشن ، اروشی روتیلا ، پیوش مشرا ، سدھارتھ بوڈکے ، وجے راز ، سونالی سہگل جیسے اداکار اہم کرداروں میں ہوں گے۔ یہ فلم اپریل میں سینما گھروں میں ریلیز کی جائے گی۔
