ساگر، 23 دسمبر (ہ س)۔
ضلع کی منڈی بامورہ پولیس چوکی کے تحت گاؤں شیخ پور میں جمعہ کی رات دو فریقوں کے درمیان لڑائی ہوئی۔ کچھ ہی دیر میں لڑائی بڑھ گئی اور ایک طرف سے ڈیڑھ درجن سے زائد لوگوں نے ہتھیاروں سے حملہ کر دیا۔ اس دوران گولیاں بھی چلیں اور کلہاڑیوں اور لاٹھیوں سے حملے بھی کئے گئے۔ اس حملے میں دو افراد ہلاک جب کہ پانچ زخمی ہوگئے جن میں سے دو کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ شدید زخمیوں کو ساگر ریفر کیا گیا ہے۔ واقعہ کے بعد گاوں میں خوف و ہراس کا ماحول ہے۔ حملہ آور ارتکاب جرم کے بعد فرار ہو گئے۔ پولیس ان کی تلاش کر رہی ہے۔
موصولہ اطلاع کے مطابق جمعہ کی رات تقریباً 9.30 بجے گاوں شیخ پور میں روپیندر یادو اور ملکھان یادو کا ایک ہی گاوں کے نربھئے یادو، نتن یادو اور دیگر کے ساتھ جھگڑا ہوا۔ جلد ہی تنازعہ نے بڑا رخ اختیار کر لیا اور نتن، نربھئے، کمل یادو اور ڈیڑھ درجن سے زیادہ لوگوں نے بندوقوں، کلہاڑیوں اور لاٹھیوں سے ملکھان یادو کے گھر پر حملہ کر دیا۔ ملزمان نے ملکھان کے گھر پر اندھا دھند فائرنگ کی۔ تیز دھار ہتھیاروں سے بھی حملہ کیا۔ حملے میں سرسوتی شوہر 45 سالہ ملکھان یادو کے سر میں کلہاڑی لگنے سے سر پھٹ گیا۔ساتھ ہی جسم پر چھرے بھی لگے۔ روپیندر (26) ولد منا یادو ساکن ایچن وارا کو 18 سے زائد چھرے لگے۔ وہیں ملکھان یادو (50 سال)، ہری سنگھ یادو (45 سال)، پاروتی یادو (42 سال) اور وملا یادو (40 سال) زخمی ہوگئے۔ گاوں والے سات زخمیوں کے ساتھ رات میں ہی منڈی بامورہ پولیس چوکی پہنچے۔ پولیس زخمیوں کو منڈی بامورہ کمیونٹی ہیلتھ سنٹر لے گئی۔ وہاں علاج نہ ہونے پر اسے بینا اسپتال لے جایا گیا۔ جہاں ڈاکٹر نے جانچ کے بعد سرسوتی یادو اور روپیندر یادو کو مردہ قرار دے دیا۔ ملکھان یادو اور ہری سنگھ یادو شدید زخمی ہیں اور انہیں ضلع اسپتال ریفر کیا گیا ہے۔ دیگر زخمی بینا اسپتال میں زیر علاج ہیں۔
واقعہ کی اطلاع ملتے ہی آگاسود سمیت تھانہ کھملاسا کی پولیس اسپتال پہنچی۔ لاشوں کو مردہ خانہ میں رکھوا کر پولیس کو شیخ پور میں ملزمان کی تلاش کے لیے بھجوا دیا گیا تاہم ملزمان کا سراغ نہ مل سکا۔ ادھر ہفتہ کی صبح ایس ڈی او پی پرشانت سمن، کھملاسا تھانہ انچارج موہن مارسکولے سمیت پولیس فورس اسپتال پہنچی اور متاثرہ کے بیانات لئے۔
ہندوستھان سماچار/
/عطاءاللہ
