رانچی، 23 اگست (ہ س)۔ رانچی کے سکھ دیو نگر تھانے نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے دو کروڑ کے جعلی نوٹ برآمد کیے ہیں۔
ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس (ڈی آئی جی) کم سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) رانچی چندن کمار سنہا کو موصول ہونے والی خفیہ اطلاع کی بنیاد پر سکھ دیو نگر علاقے میں چھاپہ مار کر جعلی نوٹ برآمد کیے گئے ہیں۔
کوتوالی کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی) پرکاش سوئے نے ہفتہ کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ ڈی آئی جی کم ایس ایس پی رانچی کو بہار سے ایک بس میں نقلی نوٹ رانچی لائے جانے کی اطلاع ملی تھی۔ اطلاع ملنے پر رتو روڈ بس اسٹینڈ کے قریب بہار سے آنے والی چندرلوک بس کی ریکی شروع کی گئی۔ اس دوران کارٹنوں میں رکھے ہوئے دو کروڑ سے زیادہ مالیت کے جعلی نوٹوں کو بس سے نکال کر کچھ لوگوں نے گاڑی میں ڈالنا شروع کر دیا، جنہیں موقع پر ہی رنگے ہاتھوں پکڑ لیا گیا۔ کارٹن کھولنے پر اس میں سے 500 روپے کے 42 بنڈل برآمد ہوئے۔ 500 روپے کے تمام نوٹ جعلی ہیں۔
کوتوالی ڈی ایس پی نے بتایا کہ محمد صابر اور ساحل کمار کو موقع سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ یہ دونوں دارالحکومت رانچی میں نقلی نوٹوں کا کاروبار کرتے ہیں۔ ملزم سے پوچھ گچھ کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ جعلی نوٹوں کا گینگ دہلی کے ایک منظم جرائم پیشہ گروہ کے ذریعے چلایا جاتا ہے، جس کا سربراہ نیرج کمار چودھری ہے، جو دہلی میں رہتا ہے۔ گرفتار کیے گئے محمد صابر اور ساحل کمار کے ذریعے فون اور واٹس ایپ کے ذریعے صارفین کو جعلی نوٹ بھیجے جاتے ہیں۔
ڈی ایس پی نے کہا کہ یہ گروہ جعلی نوٹوں کے بنڈل کے اوپر اور نیچے ایک اصلی نوٹ رکھتا ہے اور باقی جعلی نوٹ اپنے پاس رکھتا ہے۔ اس کے عوض صارفین سے 40 سے 50 ہزار روپے لیے جاتے تھے۔ ملزمان جعلی نوٹوں کے کاروبار میں 20 سے 30 فیصد کمیشن حاصل کرتے تھے۔
—————
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی
