گھریلو اسٹاک مارکیٹ نے 29 سالوں میں پہلی بار مسلسل پانچویں مہینے گراوٹ کے ساتھ بند ہونے کا ایک نیا منفی ریکارڈ بنایا۔ اس سے قبل 1996 میں بھی ایسی ہی صورتحال دیکھی گئی تھی، لیکن اگر سب سے طویل مندی کے دور کی بات کریں تو وہ 1994 سے 1995 تک 8 مہینے تک جاری رہا۔ اس مسلسل گراوٹ کی کئی وجوہات ہیں، جن میں کمزور مالی نتائج، غیر ملکی سرمایہ کاروں کی فروخت، اور عالمی اقتصادی خدشات شامل ہیں۔ مارکیٹ ماہرین کے مطابق، آنے والے دنوں میں مزید مندی کا امکان ہے۔
BulletsIn
- گھریلو اسٹاک مارکیٹ نے مسلسل پانچویں مہینے گراوٹ کے ساتھ بند ہو کر 29 سال کا منفی ریکارڈ بنایا۔
- اس سے قبل 1996 میں بھی نفٹی نے مسلسل پانچ مہینے گراوٹ دیکھی تھی، جبکہ سب سے طویل گراوٹ 1994-95 میں 8 مہینے تک رہی۔
- فروری 2025 میں اسٹاک مارکیٹ نے 4 فیصد کی گراوٹ کے ساتھ کاروبار کا اختتام کیا۔
- گزشتہ سال 27 ستمبر کو سینسیکس نے 85,978.25 اور نفٹی نے 26,277.35 کی بلند ترین سطح کو چھوا تھا۔
- اس کے بعد مسلسل کمی کے نتیجے میں سینسیکس اپنی بلند ترین سطح سے 12,780.15 اور نفٹی 4,152.65 پوائنٹس نیچے آ چکا ہے۔
- سینسیکس میں 14.86% اور نفٹی میں 15.80% کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
- ماہرین کے مطابق، غیر ملکی سرمایہ کاروں کی فروخت اور عالمی اقتصادی غیر یقینی صورتحال مندی کی بڑی وجوہات ہیں۔
- مڈ کیپ اور اسمال کیپ اسٹاکس کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے۔
- عالمی تجارتی جنگ کے خدشات بھی مارکیٹ میں غیر یقینی کی صورتحال پیدا کر رہے ہیں۔
- اگر عالمی سطح پر معاشی دباؤ برقرار رہتا ہے تو ہندوستانی اسٹاک مارکیٹ مزید گراوٹ کا شکار ہو سکتی ہے۔
